SHAWORDS
Azeem Malik

Azeem Malik

Azeem Malik

Azeem Malik

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

غم سے جب بھی آشنائی ہو گئی یہ جو دنیا تھی پرائی ہو گئی اب دلوں کے درمیاں دیوار ہے یہ خطا تو میرے بھائی ہو گئی وقت کے حاکم کا ٹوٹے گا ستم آج مجھ سے لب کشائی ہو گئی سن کے بھی وہ سن نہ پایا مدعا مفت میری جگ ہنسائی ہو گئی آنکھ سے پوچھا پتہ تیرا کبھی دل کی جانب رہنمائی ہو گئی میں خدا کے گھر میں جا کے چھپ گیا موت کی پھر بھی رسائی ہو گئی آئینے کے سامنے آیا جو میں ہر گنہ کی رونمائی ہو گئی میں ہی بس تنہا کھڑا تھا اک طرف دوسری جانب خدائی ہو گئی

gham se jab bhi aashnaai ho gai

غزل · Ghazal

کیسے شعلوں پہ چل رہا ہے دل چاندنی میں بھی جل رہا ہے دل دھیرے دھیرے اسے بھلا دوں گا رفتہ رفتہ سنبھل رہا ہے دل تم نے دزدیدہ اس کو دیکھا ہے جانے کیوں پھر اچھل رہا ہے دل لاکھ ڈھائے ستم ہیں تو نے پر خامشی سے اٹل رہا ہے دل چاند ہے میرے ساتھ بستر میں چاندنی میں ٹہل رہا ہے دل ایک بچے سا مجھ میں رہتا ہے بے تحاشہ مچل رہا ہے دل گرمیوں سے تمہاری سانسوں کی قطرہ قطرہ پگھل رہا ہے دل

kaise shoalon pe chal rahaa hai dil

غزل · Ghazal

اکثر ساری رات ہوئی ہے خود سے میری بات ہوئی ہے بھیگ گئے دونوں کے دامن بن بادل برسات ہوئی ہے لانبی پلکوں کے پیچھے سے دل پر گہری گھات ہوئی ہے شہر میں آ کر کچھ دن میں ہی اونچی اس کی ذات ہوئی ہے میری تیری اس کی اس کی اپنوں سے ہی مات ہوئی ہے آنکھیں روئی سی لگتی ہیں گھر میں کچھ تو بات ہوئی ہے نیند سے بوجھل ہیں یہ پلکیں چلئے گھر کو رات ہوئی ہے

aksar saari raat hui hai

غزل · Ghazal

رلایا جس نے مجھ کو اشک فرحت وہ ذکر غم تھا یا ذکر محبت نہ جانے عشق میں کچھ خاص کیا ہے بھلی لگنے لگی ہے اپنی صورت ہمیشہ ذہن نے روکا ہے مجھ کو مگر دل کر ہی دیتا ہے بغاوت میں مل کر بات کرنا چاہتا ہوں نکالو تو کبھی تھوڑی سی فرصت جدھر سے جی کرے آ جاؤ گھر میں نہ ہے دیوار کوئی ناں کوئی چھت عظیمؔ اک بار دیکھو پھر پلٹ کر بلاتی ہے رقیبوں کی رفاقت

rulaayaa jis ne mujh ko ashk-e-farhat

غزل · Ghazal

اب یہ کاروبار کریں غیروں سے بھی پیار کریں البم کھول کے دیکھیں اور یادوں کو گلزار کریں مر جائے گا اپنی موت دشمن پر کیوں وار کریں کب تک خالی بیٹھیں ہم مل کر ذکر یار کریں چاہت کے ہر جذبے کا برجستہ اظہار کریں سوچ کے اس کے بارے میں جینا کیوں دشوار کریں نفرت شور شرابے سے خاموشی سے پیار کریں

ab ye kaarobaar karein

غزل · Ghazal

ان کے در پہ آنکھ بچھائے بیٹھے ہیں بے مطلب کی آس لگائے بیٹھے ہیں سارے عاشق سر کے بل اور دو زانو گہری سوچ میں غوطہ کھائے بیٹھے ہیں مت جا ان کے در دیوانے پنکھ پسار وہ یادوں کی شمع جلائے بیٹھے ہیں قربانی کا شوق اگر ہے بے شک جا وہ خنجر پر دھار لگائے بیٹھے ہیں ان کی غزلیں ان کی نظمیں چھوڑو یار استادوں کے شعر چرائے بیٹھے ہیں کھیل شاعری کا ان کے سنگ لا حاصل وہ سر پر دیوان اٹھائے بیٹھے ہیں نا ممکن ہے ہو پائے دیدار ان کا وہ پلکوں کو آڑ لگائے بیٹھے ہیں پیار کے رستے مت جانا او ملک عظیمؔ رنج و غم سب گھات لگائے بیٹھے ہیں

un ke dar pe aankh bichhaae baiThe hain

Similar Poets