SHAWORDS
A

Azeemullah Khan Waqar

Azeemullah Khan Waqar

Azeemullah Khan Waqar

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کیوں یہ حسن نظر دیا تو نے وقف آلام کر دیا تو نے مندمل جو کبھی نہ ہو پائے ایسا زخم جگر دیا تو نے کون منصور جو چڑھے سولی یوں تو سب کو جگر دیا تو نے ڈوبتی نبض کرب سناٹے اور حکم سفر دیا تو نے زندگی چھاؤں کو ترستی ہے کیسا جلتا سفر دیا تو نے تاج بنتے ہی ہاتھ کٹتے ہیں کیسا دست ہنر دیا تو نے اس جہاں کا ہر ایک غم لا کر میرے دامن میں بھر دیا تو نے سب کے ہاتھوں میں دے دیے پتھر مجھ کو شیشے کا گھر دیا تو نے جس نے مجھ کو وقار بخشا ہے وہ غم معتبر دیا تو نے

kyon ye husn-e-nazar diyaa tu ne

غزل · Ghazal

سختیوں سے گزر رہا ہوں میں گویا قسطوں میں مر رہا ہوں میں دوستوں کی نوازشیں توبہ اپنے سایہ سے ڈر رہا ہوں میں ظلمتوں کا غرور ٹوٹے گا نور بن کر ابھر رہا ہوں میں ایک عالم تو یوں بھی گزرا ہے آپ سے بے خبر رہا ہوں میں کوئی آ کر سمیٹ لے مجھ کو ریزہ ریزہ بکھر رہا ہوں میں چن کے کانٹے وقارؔ نفرت کے اپنے دامن میں بھر رہا ہوں میں

sakhtiyon se guzar rahaa huun main

غزل · Ghazal

اب تحفظ نہیں ہے جانوں کا یہ ہے احسان حکمرانوں کا بھوک افلاس اور بیماری مسئلہ ہے کئی گھرانوں کا ساری بستی نگل گیا طوفاں کیا چلے گا پتا مکانوں کا ہو گیا کتنا لالچی انساں بن گیا سانپ وہ خزانوں کا تولتے ہیں پروں کو وہ اپنے علم جن کو نہیں اڑانوں کا صرف باقی رہا کتابوں میں ذکر اب شاہی خاندانوں کا چاہتے ہو وقارؔ آزادی فدیہ دینا پڑے گا جانوں کا

ab tahaffuz nahin hai jaanon kaa

غزل · Ghazal

جو گھر کی بات باہر بولتا ہے وہ میرا ہی برادر بولتا ہے اجالے اب ہمیں ڈسنے لگے ہیں سکوت شب کا منظر بولتا ہے جلیں گے ان غریبوں کے مکاں پھر یہاں کا ہر ستم گر بولتا ہے موثر ہو جو انداز تخاطب پڑا راہوں میں پتھر بولتا ہے کسی کا قتل ہوگا پھر یقیناً چھپا ہاتھوں میں خنجر بولتا ہے رویہ ہو تمہارا مخلصانہ مری ملت کا رہبر بولتا ہے وقارؔ حق نوا کی بات سن لو ہزاروں میں وہ کھل کر بولتا ہے

jo ghar ki baat baahar boltaa hai

Similar Poets