SHAWORDS
Azeez Mubarakpur

Azeez Mubarakpur

Azeez Mubarakpur

Azeez Mubarakpur

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

aankh se aansu Tapaktaa jaae hai

آنکھ سے آنسو ٹپکتا جائے ہے ہر مسافر سر پٹکتا جائے ہے نازکی کیا کہئے نازک پھول کی بار شبنم سے لچکتا جائے ہے زخم دل ہم نے چھپایا تو مگر پھول کی صورت مہکتا جائے ہے کہہ رہا ہوں میں تو اپنی داستاں کیوں تمہارا دل دھڑکتا جائے ہے جب بجھانا چاہتا ہوں غم کی آگ اور بھی شعلہ بھڑکتا جائے ہے لب پہ ناصح کے نصیحت ہے مگر ہاتھ میں ساغر چھلکتا جائے ہے دیدۂ مقتول میں اب کس لئے عکس قاتل کا جھلکتا جائے ہے راہ میں پہلے بھٹکتا تھا عزیزؔ اب سر منزل بھٹکتا جائے ہے

غزل · Ghazal

ham insaan hain dil-e-insaan ko taDpaanaa nahin aataa

ہم انساں ہیں دل انساں کو تڑپانا نہیں آتا کرم کی شان رکھتے ہیں ستم ڈھانا نہیں آتا مرے زخموں سے تم کب تک بچاؤ گے نظر اپنی یہ وہ غنچے ہیں جن کو کھل کے مرجھانا نہیں آتا کہوں کیسے کہ آنسو میری آنکھوں میں نہیں لیکن صدف کو گوہر نایاب بکھرانا نہیں آتا ہم اہل غم سدا سنگ الم سے کھیلتے آئے یہ کس نے کہہ دیا پتھر سے ٹکرانا نہیں آتا ہمارے جرم الفت کی تو کی شہرت زمانے میں مگر اپنی جفا پر ان کو شرمانا نہیں آتا ہم اپنی بد نصیبی سے اب اس منزل پہ آ پہنچے فسانہ غم کا جس منزل پہ دہرانا نہیں آتا فریب عہد سے ان کے عزیزؔ اب تو یہ عالم ہے کسی صورت دل مضطر کو بہلانا نہیں آتا

غزل · Ghazal

bahaar mein bhi shagufta koi gulaab nahin

بہار میں بھی شگفتہ کوئی گلاب نہیں شباب کا ہے زمانہ مگر شباب نہیں سحر تو آئی ہے پر صبح انقلاب نہیں یہ آفتاب کا دھوکا ہے آفتاب نہیں لہولہان چمن ہے تو دست پیاسا ہے کہاں کہاں پہ کرم آپ کا جناب نہیں خزاں کا دور تو گزرا خدا خدا کر کے بہار آئی تو مے خانے میں شراب نہیں عجیب ہے تری دریا دلی کا افسانہ کہ فیض عام ہے اور کوئی فیضیاب نہیں الم نصیب کے چہرے کو کون پڑھتا ہے کہ یہ کتاب نشاط آفریں کتاب نہیں جنوں کے ساز پہ کر لے گا رقص دیوانہ بلا سے آج اگر نغمۂ رباب نہیں کسی کا بزم میں غیرت سے دم گھٹا جائے مگر ضمیر فروشوں کو کچھ حجاب نہیں بجھا سکے نہ مظالم کے تند جھونکے بھی چراغ حوصلۂ‌ شوق کا جواب نہیں خراب رہتا ہے ماحول کیوں خدا جانے اس انجمن میں تو اب کوئی بھی خراب نہیں عزیزؔ خود کو بچاؤ نظر کے دھوکے سے دھوئیں کا رقص فضا میں ہے یہ سحاب نہیں

غزل · Ghazal

ashkon se tapish siine ki hoti hai ayaan aur

اشکوں سے تپش سینے کی ہوتی ہے عیاں اور جب آگ بجھاتا ہوں تو ہوتا ہے دھواں اور ہیں ایک ہی گلشن میں مگر فرق تو دیکھو پھولوں کا جہاں اور ہے کانٹوں کا جہاں اور شاید یہ کرشمہ ہے مرے نقش وفا کا وہ جتنا مٹاتے ہیں ابھرتا ہے نشاں اور سر اپنا اٹھا لوں جو در یار سے ناصح سجدہ یہ محبت کا ادا ہوگا کہاں اور اب فیض بہاراں کی کروں خاک تمنا میں فصل بہاراں میں ہوں پامال خزاں اور کچھ اور بکھر جائیں جو رخ پر تری زلفیں چھا جائے اجالے پہ اندھیرے کا سماں اور داغ جگر و دل ہی نہیں دید کے قابل روشن سر مژگاں ہے ستاروں کا جہاں اور اک عرض تمنا پہ ہوا شور قیامت کیا ہوگا عزیزؔ آپ نے کھولی جو زباں اور

غزل · Ghazal

tu agar sham-e-mohabbat ko farozaan kar de

تو اگر شمع محبت کو فروزاں کر دے تیرگی ظلم کی چاک اپنا گریباں کر دے درد کیا شے ہے زمانے پہ نمایاں کر دے غم کی ہر موج سے ہنگامۂ طوفاں کر دے روشن اس طرح سے کر علم و عمل کی مشعل کم نگاہی کے اندھیرے میں چراغاں کر دے دیکھی جاتی نہیں بے کیف فضائے گلشن اٹھ نئے سر سے اسے خلد بداماں کر دے تیز کر شعلۂ احساس عمل کو اپنے برق مغرور کو انگشت بدنداں کر دے کانپ اٹھتا ہے جگر سن کے جفا کے قصے ختم افسانۂ خوں ریزیٔ انساں کر دے سینچ کر صبح و مسا خون جگر سے اپنے تو جو چاہے تو بیاباں کو گلستاں کر دے رہ کے پابند قفس نالہ و فریاد نہ کر عزم بے باک کو غارت گر زنداں کر دے مضمحل ہو کے نہ کر بزم تمنا بے کیف نغمہ زن شوق سے پھر تار رگ جاں کر دے دل میں اس کار نمایاں کی تڑپ پیدا کر جو ہر اک فرد کو ملت کا نگہباں کر دے پیکر عزم مصمم جو تو ہو جائے عزیزؔ سر ترے قدموں پہ خم گردش دوراں کر دے

غزل · Ghazal

dil-shikan subh lage shaam dil-aazaar lage

دل شکن صبح لگے شام دل آزار لگے اب سفینہ مرا اس پار نہ اس پار لگے بزم قاتل کی طرح حسن کی سرکار لگے یوں چلے بات کی چلتی ہوئی تلوار لگے بے سہارا ترے وعدوں کا محل ہے ورنہ خوب صورت تو بہت ریت کی دیوار لگے قوم کے درد سے اب ان کو سروکار نہیں خون انساں کی نمائش ہو کہ بازار لگے تھا برا وقت جب ان کا تو سنبھالا ہم نے دن پھرے اب تو ہمیں ان کو گنہ گار لگے سلسلہ شور سلاسل کا یہاں تک پہنچا دل بھی دھڑکے ہے تو زنجیر کی جھنکار لگے اب کے یہ موج بلا دیکھیے لے جائے کہاں اس کے پہلے تو کنارے سے کئی بار لگے پی کے ہر دم جو رہے مست وہی مے کش ہے رند وہ کیا ہے جو موسم کا گنہ گار لگے یوں بھی ہوتا ہے علاج غم انساں کہ عزیزؔ نام کا نام ہو بیمار کا بیمار لگے

Similar Poets