Azeezul Ghani Sahir
libaas jis ke badan par thaa ek jaahil thaa
لباس جس کے بدن پر تھا ایک جاہل تھا برہنہ جسم تھا جو وہ وقار محفل تھا خود اپنے آپ پہ اس کو یقین کامل تھا مگر وہ رسم زمانہ سے کتنا غافل تھا نہ پوچھئے کہ ہم آئے ہیں کس طرح بچ کر تمہارے شہر میں ہر شخص آج قاتل تھا کوئی بجھاتا بھلا کیسے بھول کر مجھ کو میں وہ دیا تھا جو طوفان کے مقابل تھا بنا دیا ہے حوادث نے اس کو بھی پتھر وہ پہلے قطرۂ شبنم تھا صورت گل تھا بس اک اسی کی تھی سیراب زندگی ساحرؔ وہ جس کے دل میں طلب کا وسیع ساحل تھا