SHAWORDS
Azhar Ghauri Nadwi

Azhar Ghauri Nadwi

Azhar Ghauri Nadwi

Azhar Ghauri Nadwi

poet
13Ghazal

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

jo ab bhi un ki yaadein aaiyaan hain

جو اب بھی ان کی یادیں آئیاں ہیں تو آنکھیں اشک خوں برسائیاں ہیں پرانے زخم کر دیتی ہیں تازہ ستم گر کس قدر پروائیاں ہیں یہ روز و شب یہ صبح و شام کیا ہیں نگار وقت کی انگڑائیاں ہیں اگر دل ہی ہوا شائستہ غم کہاں دنیا میں پھر رعنائیاں ہیں یہ کیا قصہ نکالا تو نے ناصح دل بیتاب پر بن آئیاں ہیں سنبھل جا اے دل ناداں سنبھل جا کہ آگے ہر طرف رسوائیاں ہیں نکالے سب نے اپنے اپنے مطلب سخن میں کس قدر گہرائیاں ہیں بنا ڈالا زمانہ بھر کو دشمن بلائے جاں مری دانائیاں ہیں مقام شکر ہے یہ بھی تو اظہرؔ مقدر میں اگر تنہائیاں ہیں

غزل · Ghazal

gham kahin samt-e-safar thi raahbar koi na thaa

غم کہیں سمت سفر تھی راہبر کوئی نہ تھا ایک صحرائے الم تھا ہم سفر کوئی نہ تھا اس کو بھی ہم نے یہی سمجھا تماشا ہے کوئی جب کھلیں آنکھیں نشان سنگ در کوئی نہ تھا وقت ہم کو ٹھوکروں پر ٹھوکریں دیتا رہا اور اپنے ہاتھ میں تیر و تبر کوئی نہ تھا قریۂ بیداد خواہاں کی شکایت ہے عبث شہر ہمدرداں میں بھی تو چارہ گر کوئی نہ تھا دھجیاں اڑتی رہیں جیب و گریباں کی مرے روک دیتا بزم میں آشفتہ سر کوئی نہ تھا میرے رازوں میں نہ کوئی راز باقی رہ گیا ہم نشینوں میں مرے نا معتبر کوئی نہ تھا اس لئے ہم نرگس بیمار کے قائل ہوئے اس کے جیسا بھی چمن میں دیدہ ور کوئی نہ تھا دل کے زخموں کو عطا کرنا تھا لفظوں کا لباس اور اظہرؔ مقصد عرض ہنر کوئی نہ تھا

غزل · Ghazal

bachaa le dhuup se aisaa koi shajar na milaa

بچا لے دھوپ سے ایسا کوئی شجر نہ ملا کہیں سراغ وفا قصہ مختصر نہ ملا مچل رہے تھے جبین نیاز میں سجدے یہ اور بات مقدر سے سنگ در نہ ملا کریدتے رہے سب دوست میرے زخموں کو سبھی نے طنز کیے کوئی چارہ گر نہ ملا وہ کربلا تو نہیں دوستوں کی بستی تھی تڑپتے رہ گئے پانی کو بوند بھر نہ ملا ہجوم یاروں کا تھا میرے ساتھ ساحل تک سمندروں میں مگر کوئی ہم سفر نہ ملا لکھا کے لائے تھے محرومیاں مقدر میں تجھے دعا نہ ملی اور مجھے اثر نہ ملا ابھی تو اشک کی اک بوند سے یہ طوفاں ہے قدم سنبھال لے اور آہ میں شرر نہ ملا قدم بڑھائے تو پایاب تھا ہر اک دریا مگر تلاش تھی جس کی وہی گہر نہ ملا ہم اپنی زیست کو کرتے بھی کیا رقم اظہرؔ ورق ملا بھی جو سیمیں تو آب زر نہ ملا

غزل · Ghazal

vahi dilon ko shikast karnaa vahi savaal-o-javaab karnaa

وہی دلوں کو شکست کرنا وہی سوال و جواب کرنا کہاں سے سیکھا ہے تو نے ناصح قدم قدم احتساب کرنا وہ اپنے موتی برس برس کر نہ اس طرح رائیگاں کرے گی کبھی نہ اس چشم نیل گوں سے امید مثل سحاب کرنا جہاں بھی مل جائے دیکھ لینا وہی ہے جان وفا کی صورت وہی نگاہیں جھکائے رکھنا حیا سے چہرہ گلاب کرنا بہار خون جگر پلا کر جنھوں نے تجھ کو شباب بخشا یہ کیا غضب ہے کہ فصل گل میں انہیں کو خانہ خراب کرنا یہ فرض سونپا ہے باغبانوں کو رات صیاد نے چمن کے کہ لوریاں دے کے کل عنادل کو اور بھی محو خواب کرنا کبھی یہ سوچا بھی میرے یارو کہ اس میں آخر ہے فائدہ کیا جو چند لمحے ہیں زندگی کے انہیں کو نذر عذاب کرنا کسی طرح بھی نہ آنے پائے کوئی جھلک شاعری میں اظہرؔ ہر اک غزل خواہ اپنے دل میں اسی کے نام انتساب کرنا

غزل · Ghazal

raushan na hui thi subh abhi munh khol rahi hai shaam kahin

روشن نہ ہوئی تھی صبح ابھی منہ کھول رہی ہے شام کہیں آغاز نہ ہونے پایا تھا اور ہونے لگا انجام کہیں اس دنیا میں کیا ملنا ہے بس ارمانوں کے خوں کے سوا اے خواب حسیں تیرے چلتے ہو جائیں نہ ہم بدنام کہیں مانند صبا آوارہ ہم پھرتے ہی رہے شہروں شہروں رمتا جوگی بہتا پانی ہے صبح کہیں تو شام کہیں اس وقت تو خوش آتے ہیں نظر کچھ سادہ لوح عنادل بھی دیکھو تو نہ پھر پھیلایا ہو صیاد نے کوئی دام کہیں صیاد سے گر لڑنا ہے تجھے شاہیں کا جگر پیدا کر لے بلبل جیسے نازک دل سے ہوتا ہے جری اقدام کہیں کچھ زیست کا غم کچھ ملت کا مغموم رہے ہر دم اظہرؔ حساس طبیعت والوں کو ملتا ہے بھلا آرام کہیں

غزل · Ghazal

jaane kitnon ke liye rashk kaa mehvar Thahraa

جانے کتنوں کے لیے رشک کا محور ٹھہرا تیرا زخمی بھی تو قسمت کا سکندر ٹھہرا لذت درد کی بڑھتی ہی چلی آتی ہے طرب انگیز بہت ایک ہی نشتر ٹھہرا بھر گئیں ذہن میں رعنائیاں اک جلوے سے ہو کہیں جیسے کوئی پریوں کا لشکر ٹھہرا کیا شکست اس کو بھلا گردش دوراں دے گی خاک کا ڈھیر ہی جس کے لیے بستر ٹھہرا میری مہمان نوازی کا تھا چرچا ایسا جو بھی طوفان بلا آیا مرے گھر ٹھہرا خستہ حالی سے جو بونا نظر آتا تھا تمہیں وقت جب آیا تو پھر کتنا قد آور ٹھہرا نذر جاں راہ محبت میں بہت آساں ہے شرط میرے لیے کچھ مشکل و برتر ٹھہرا گر امنڈ آئے تو غرقاب نہ ہو شہر تمام یہ جو آنکھوں میں ہے اشکوں کا سمندر ٹھہرا کیسے اظہرؔ کسی سورج کو سلامی دے گا کیوں نہ ہو اپنے زمانے کا قلندر ٹھہرا

Similar Poets