Azhar Nadvi
Azhar Nadvi
Azhar Nadvi
Ghazalغزل
دن تمہارا ہے رات ہے اپنی اب تو اتنی سی بات ہے اپنی ایک ذرے سے بھی ہے جو کمتر ہستیٔ بے ثبات ہے اپنی جیت دنیا جسے سمجھتی ہے وہی دراصل مات ہے اپنی کچھ نہ گر فائدہ ہو دنیا کو زندگی واہیات ہے اپنی کچھ ادب اور علم کی خدمت کل یہی کائنات ہے اپنی نا مرادی سی نا مرادی ہے دشمنی شش جہات ہے اپنی
din tumhaaraa hai raat hai apni
4 views
نہ راستے ہوئے روشن نہ تیرگی کم ہے اک اور شمع جلاؤ کہ روشنی کم ہے بس اک شعور نہیں دوسروں کے دکھ کا کچھ وگرنہ یہ نہیں انساں میں آگہی کم ہے مئے اذیت دوراں سے ہوش گم نہ کیے گھٹائیں ہو گئیں ہلکی نہ ہم نے پی کم ہے کھنچے تمہاری طرف کس طرح سے دل اپنا کہ تم میں اب بھی میاں شان دلبری کم ہے دلوں سے اب بھی شرارے نکل تو سکتے ہیں مگر جو شعلے اٹھاتی وہ آگ ہی کم ہے پیام دیتی ہے اظہرؔ یہ گردش شب و روز کہ جلد کر لو جو کر پاؤ زندگی کم ہے
na raaste hue raushan na tirgi kam hai
3 views
اور کیوں درد سر کیجئے بات کو مختصر کیجئے اشک تو ختم ہی ہو چکے خون سے چشم تر کیجئے قدرداں ہی نہ جب کوئی ہو کس سے عرض ہنر کیجئے رہزنوں کو حیا جن سے آئے مت انہیں راہبر کیجئے کیجے تعمیر بے شک محل کیوں ہمیں در بدر کیجئے جیسے خوشبو رہے پھول میں زندگی یوں بسر کیجئے
aur kyon dard-e-sar kijiye
3 views
نکھر سکی ہے نہ گل کی نہ خار کی صورت بہار اب کے نہ آئی بہار کی صورت نہ جانے کون سی سرسر چلی کہ گلشن میں اڑا دیا ہمیں مشت غبار کی صورت جناب شیخ دکھائیں مداہنت کیسے نہ رہ گئی کوئی باقی فرار کی صورت یہ اس کے چہرے سے کچھ بھی پتہ نہ چلتا تھا کہ وہ عدو کی ہے صورت کہ یار کی صورت تو ہے ہمارا وفادار یا رقیب کا ہے دکھا دے اب تو کوئی آر پار کی صورت
nikhar saki hai na gul ki na khaar ki surat
2 views
دل امنگوں سے جو خالی ہو تو بے دل کہئے پھر کسے ناقہ سمجھیے کسے محمل کہئے اب کوئی یار نہ دل دار نہ دشمن نہ حریف زندگی اس کو تری کون سی منزل کہئے آج ہر گام پہ مقتل کا گماں ہوتا ہے کسے قاتل تو کسے کوچۂ قاتل کہئے زندگی موت سے کچھ کم تو نہیں ہے دشوار کسے آسان سمجھئے کسے مشکل کہئے ساری بیماری و صحت کا اسی پر ہے مدار جسم کا چھوٹا سا ٹکڑا کہ جسے دل کہئے ساری قربانیاں اب تک کی تو باطل ٹھہریں کیا بچا پھر کہ جسے زیست کا حاصل کہئے دل ہی ویران ہو اظہرؔ تو کہاں پھر رونق راس آ سکتی ہے پھر کون سی محفل کہئے
dil umangon se jo khaali ho to be-dil kahiye
1 views
کبھی نفرت کا قصہ مختصر ہونے نہیں دیتا کسی صورت وہ ہم کو معتبر ہونے نہیں دیتا ذرا اس کا کرشمہ دیکھ کوئی انقلاب آئے نظام کہنہ کو زیر و زبر ہونے نہیں دیتا ذرا ٹہنی بڑھی اور باغباں نے کاٹ کر پھینکی اسے پودا ہی رکھتا ہے شجر ہونے نہیں دیتا جو مل بیٹھے تو پھر صیاد کی کچھ چل نہ پائے گی عنادل کو وہ یوں شیر و شکر ہونے نہیں دیتا ہمارے قافلے کے ہر مسافر میں یہ خوبی ہے کسی کو بھی وہ اپنا راہبر ہونے نہیں دیتا سمجھ بیٹھا اسے تریاق جس کو زہر کہتا تھا تجھے تو آئنہ بھی شیشہ گر ہونے نہیں دیتا عیاں ہو جائے گا اس طرح سے رنگ بہار اظہرؔ لہو سے اس لئے چہرہ وہ تر ہونے نہیں دیتا
kabhi nafrat kaa qissa mukhtasar hone nahin detaa
1 views





