
Aziz Akhtar
Aziz Akhtar
Aziz Akhtar
Ghazalغزل
شور کرتا ہے جو دل اس کا بدل کہنے دے کام سو کر لئے اب یار غزل کہنے دے خستہ حالی کو تری مان لیا ٹھیک ہے چل گل نہیں تو مجھے تجھ کو تو کنول کہنے دے ساتھ ہیں ہم تو کہیں گے ہی کئی باتیں لوگ کہنے والوں کو ہٹا یار نکل کہنے دے وہ محبت ہے وہ ہی اس کی نشانی ہے عزیزؔ اس لئے مجھ کو اسے تاج محل کہنے دے
shor kartaa hai jo dil us kaa badal kahne de
جو لٹ گیا تو ہر اک ساز دستیاب ہوا بھٹک کے راہ تلاشی تو کامیاب ہوا مری ہی چشم سے سیراب وہ سراب ہوا میں ہو گیا کوئی کانٹا تو وہ گلاب ہوا سوال کرتے زمانے گزر گئے مجھ کو سکوت کر لیا تو پھر وہی جواب ہوا بھلا کے خود کو ہر اک دل ہے دیکھنے میں لگا کسے ملی کوئی نعمت کسے عذاب ہوا ہزار لوگ ہوئے ہیں مگر زیادہ دیر بتاؤ کون سا جھوٹا یہاں جناب ہوا سروں کے تاج ہوئے قوم کے چھپے رستم بہت ستایا گیا جو کھلی کتاب ہوا تری جدائی کے دن بھی بہت برے تھے مگر غموں کا چھوڑ کے جانا بہت خراب ہوا حقیقتوں کی حقیقت جو ہو گئی معلوم عزیزؔ دیکھ مرا روم روم خواب ہوا
jo luT gayaa to har ik saaz dastiyaab huaa
خدا نے اس کو کوئی غم نہیں دکھایا تھا عجیب شخص تھا جانے کہاں سے آیا تھا یہ کیا ستم ہے کہ یاد آ رہا ہے تو پھر سے ابھی ابھی تو تجھے میری جاں بھلایا تھا مرے خدا وہ کسی اور کی پناہ میں ہے وہ جس کو تو نے مرے واسطے بنایا تھا لٹا دیا ہے جو کچھ ملکیت میں تھا اپنی ترے لئے ہی کمایا تھا جو کمایا تھا اتر گیا ہے کسی اور کے وجود میں وہ جو ایک شخص مری ذات میں سمایا تھا عزیزؔ قتل بھی کس نے کیا ہے دیکھ ذرا وہ جاں پہ کھیل کے اپنی جسے بنایا تھا
khudaa ne us ko koi gham nahin dikhaayaa thaa
وبال میرے محلے کو نام ہے تیرا کہ ذکر گھر میں مرے صبح و شام ہے تیرا یہ دیکھ آج زمانہ ہے توڑتا مجھ کو نہ یاد ہوگا تجھے پر یہ کام ہے تیرا میں سوچتا تھا تو انمول ہے مگر جاناں مکان گاڑی بھری جیب دام ہے تیرا نکال سکتا نہیں چاہ کر بھی دل سے تجھے کہ ایک کھائی میں دل کا مقام ہے تیرا تو جیسے چاہے نچائے ہے اختیار تجھے عزیزؔ کہتے ہیں جس کو غلام ہے تیرا
vabaal mere mahalle ko naam hai teraa
یہ تیر ہوش ربا ہے مگر کمان نہیں زمین دھوکے میں رکھے گی آسمان نہیں مرے بھی سامنے لب کو ذرا سی جنبش دیں مجھے ملی ہے خبر آپ بے زبان نہیں اجاڑ صحرا خرابہ بن اور ویرانہ ہر ایک شے ہے مرا گھر مگر مکان نہیں ہے اختیار زمیں پر تو آسماں کی ہوس جناب آپ اب اتنے بھی کچھ مہان نہیں وہ شخص میری محبت ہے اور میں اس کی مگر ہمارا کوئی ایک خاندان نہیں ہے اک فریب یہ مکتوب پھاڑ دیں اس کو عدو کے لفظ ہیں یہ سب مرا بیان نہیں کرائے اس سے نہ ہرگز بھی کوئی رکھوالی وہ ایک چور ہے اک چور پاسبان نہیں عزیزؔ ہوش میں آ جا کہ اصل دنیا ہے یہ کوہ کن کی یا مجنوں کی داستان نہیں
ye tiir hosh-rubaa hai magar kamaan nahin





