SHAWORDS
A

Aziz Badayuni

Aziz Badayuni

Aziz Badayuni

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

مرجھائے ہوئے پھر گل تر دیکھ رہی ہوں ناقدرئ ارباب ہنر دیکھ رہی ہوں پھر چشم تغافل سے تری حشر بپا ہے میں گردش دوراں کی نظر دیکھ رہی ہوں مژگاں پہ لرزتے ہوئے اشکوں کے دیے ہیں وابستۂ جاں برق و شرر دیکھ رہی ہوں کیا حسن بصارت میں بصیرت کی کمی ہے کچھ اہل نظر چاک جگر دیکھ رہی ہوں پندار وفا تمکنت ہوش خبردار افلاک پہ دھرتی کے قمر دیکھ رہی ہوں اب تک یہ روایات کہن جاگ رہی ہیں کچھ لعل و گہر خاک بسر دیکھ رہی ہوں کچھ تیری نگاہوں نے دکھایا ہے تماشہ کچھ طرفہ زمانہ کا اثر دیکھ رہی ہوں تسخیر مہ و مہر کے با وصف عزیزؔ آج اجڑے ہوئے خاموش نگر دیکھ رہی ہوں

murjhaae hue phir gul-e-tar dekh rahi huun

غزل · Ghazal

دل بیتاب کو بہلا چکی ہوں ستارے آسماں سے لا چکی ہوں نگاہ کہکشاں سے پوچھ لینا شعاع زندگانی پا چکی ہوں خرد کی تنگ وادی سے نکل کر جنوں کی منزلت اپنا چکی ہوں اندھیروں میں چراغاں کرنے والو اجالوں میں اندھیرا پا چکی ہوں زمیں کی پستیوں کو کیوں گلہ ہے جنہیں میں آسماں بتلا چکی ہوں جہاں پر عقل رک جاتی ہے اکثر تصور میں وہاں تک جا چکی ہوں ترے کردار میں مضمر ہے عظمت تجھے اے زندگی سمجھا چکی ہوں محبت صرف روحانی کشش ہے غم ہستی تجھے اپنا چکی ہوں شعور زیست نا ممکن نہیں ہے نگاہ موت کو شرما چکی ہوں عزیزو با وفا فضل خدا سے مقام بندگی اپنا چکی ہوں

dil-e-betaab ko bahlaa chuki huun

غزل · Ghazal

بقا صدف کی گہر کے سوا کچھ اور نہیں وفا شعور بشر کے سوا کچھ اور نہیں غلط غلط کہ محبت فریب ہستی ہے یہ ربط خاص اثر کے سوا کچھ اور نہیں شعاع مہر منور میں ماہ تاباں میں کسی کی پہلی نظر کے سوا کچھ اور نہیں ابھی جنوں کو گزرنا ہے شاہراہوں سے جنوں کی حد ترے در کے سوا کچھ اور نہیں وہ شام غم جو تری زندگی کا حاصل ہے وہ شام نور سحر کے سوا کچھ اور نہیں یہی نظام جہاں ہے یہی ہے راز بقا ثمر حیات شجر کے سوا کچھ اور نہیں تجھے خرد سے ہے نسبت ہمیں عزیزؔ جنوں بقدر ظرف نظر کے سوا کچھ اور نہیں

baqaa sadaf ki guhar ke sivaa kuchh aur nahin

غزل · Ghazal

قلب ہستیٔ فگار دیکھ لیا آرزو کا مزار دیکھ لیا ہوش گم ہو گئے زمانہ کے زندگی کا خمار دیکھ لیا لب کشا یوں ہوا کوئی غنچہ جیسے اک آبشار دیکھ لیا پھر کوئی بار بار کیوں دیکھے جب تجھے ایک بار دیکھ لیا دامن صبر تار تار ہوا آپ کا انتظار دیکھ لیا زندگی بھی ہمیں عزیزؔ نہیں آرزو کا مزار دیکھ لیا

qalb-e-hasti-e-figaar dekh liyaa

غزل · Ghazal

دل مضطرب تری دھڑکنوں میں یہ کس کا عکس خرام ہے کہ اسی خرام پہ منحصر مری زندگی کا نظام ہے اسی کشمکش میں نہ طے ہوئے رخ و زلف یار کے مرحلے کہ حریف دیدۂ منتظر کبھی صبح ہے کبھی شام ہے مرے حال پر نگہ کرم تو بجا مگر یہ کرم کہیں مرا اضطراب نہ چھین لے ابھی اس سے اور بھی کام ہے مہ و مہر انجم و کہکشاں نہیں لاکھ پردۂ درمیاں وہ حد نگاہ سے دور ہے تو جبیں سے ایک ہی گام ہے جو عزیزؔ ہے مری زندگی تو یہ محویت بھی ہے بندگی کہ نماز عشق میں ناصحا نہ سجود ہے نہ سلام ہے

dil-e-muztarib tiri dhaDkanon mein ye kis kaa aks-e-khiraam hai

غزل · Ghazal

ہیں کشمکش میں آج تری داستاں سے ہم اے دل شروع کریں یہ حکایت کہاں سے ہم تیرا خلوص تیری محبت تری نظر کس طرح چھین لائیں مہ و کہکشاں سے ہم نازاں ہے کوئی اپنے تغافل پہ مرحبا مجبور ہو رہے دل ناز داں سے ہم جوش جنوں نے تھام لیا ہے خلوص ہے گزرے قدم قدم پہ نئے امتحاں سے ہم قحط وفا میں ولولۂ جاں فنا ہوا کیا بد گماں ہیں آج کسی راز داں سے ہم یہ تو خزاں نصیب بہاروں سے پوچھئے وابستۂ خلوص رہے گلستاں سے ہم محسوس ہو رہا ہے کہ منزل قریب ہے کچھ دور جا چکے ہیں فضائے جہاں سے ہم اف وسعت نگاہ تخیل نہ پوچھئے سو آسماں بلند ہیں اس آسماں سے ہم یہ داستان غم ہی متاع عزیزؔ ہے دنیا بسا رہے ہیں غم جاوداں سے ہم

hain kashmakash mein aaj tiri daastaan se ham

Similar Poets