Aziz Indori
سب مجھے ڈھونڈ رہے ہیں میں چھپا جاتا ہوں اپنے ہی جسم میں اب دفن ہوا جاتا ہوں چشم بینا مجھے دامن میں چھپا لے آ کر آج بازار میں بے مول بکا جاتا ہوں بڑھتے بڑھتے کبھی اک دائرہ بن بیٹھا تھا گھٹتے گھٹتے میں فقط نقطہ رہا جاتا ہوں اس طرح وقت نے الٹی ہے بساط ہستی اب میں دنیا کی سمجھ میں بھی تو آ جاتا ہوں ایک تنکے سے بھی کمتر ہے عزیزؔ اپنا وجود وقت کی تیز ہواؤں میں اڑا جاتا ہوں
sab mujhe DhunD rahe hain main chhupaa jaataa huun