SHAWORDS
A

Aziz Khan Aziz

Aziz Khan Aziz

Aziz Khan Aziz

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

کون کہتا ہے خار ہیں ہم لوگ گلستاں کی بہار ہیں ہم لوگ خاکساری ہمارا شیوہ ہے اصل میں تاجدار ہیں ہم لوگ ہم کو ہتھیار کی ضرورت کیا جب محبت شعار ہیں ہم لوگ تخت والے تو ہو گئے معزول برسر اقتدار ہیں ہم لوگ سائلوں کی دعائیں لیتے ہیں کس قدر مال دار ہیں ہم لوگ حال و ماضی ہمارے ہیں شاہد قابل اعتبار ہیں ہم لوگ ہم کو دنیا عزیز لگتی ہے نام کے دین دار ہیں ہم لوگ کون ہیں جو ہمیں عزیزؔ نہیں دشمنوں کے بھی یار ہیں ہم لوگ

kaun kahtaa hai khaar hain ham log

غزل · Ghazal

بے وفا پائے گئے حسن کے پیکر کتنے پھر بھی وابستہ رہے ان سے مقدر کتنے اٹھ گئے محفل دنیا سے سخنور کتنے ان میں گزرے ہیں صداقت کے پیمبر کتنے آج بن بیٹھے ہیں بت خانوں کی عظمت کے نشاں میرے ہاتھوں کے تراشے ہوئے پتھر کتنے غیر ممکن نہیں تسخیر زمانہ لیکن آپ کے پاس ہیں اخلاق کے زیور کتنے نیکیاں کر کے بھلا دینا ہے شیوہ جن کا دیکھیے بستی میں ایسے ہیں تونگر کتنے دور کر دیتے ہیں احباب و اقارب کو ندیم منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کے نشتر کتنے امتحاں لے کے کئی بار فلک نے دیکھا خاک کے پتلے میں پوشیدہ ہیں جوہر کتنے رہنمائی کا کبھی دعویٰ کیا کرتے تھے بیچ طوفان کے ہم راہ تھے رہبر کتنے پر سکوں دور کی حسرت میں خدا جانے عزیزؔ دیکھنے ہوں گے ہمیں خون کے منظر کتنے

bevafaa paae gae husn ke paikar kitne

غزل · Ghazal

پیار ہے تو گلہ ضروری ہے تلخ و شیریں مزہ ضروری ہے بے اصولی میں اطمینان کہاں زیست میں ضابطہ ضروری ہے حل مسائل کا ڈھونڈنے کے لئے باہمی مشورہ ضروری ہے دوسروں کو سمجھنے سے پہلے خود کو ہی جاننا ضروری ہے شر سے بچنے کے واسطے یارو خیر کا راستہ ضروری ہے لوگ ملتے ہیں سب محبت سے دوستی ہو یہ کیا ضروری ہے دوستوں کے علاوہ اپنے پاس دشمنوں کا پتا ضروری ہے دل سے کرتا عزیزؔ کچھ بھی نہیں اس کو تیری رضا ضروری ہے

pyaar hai to gila zaruri hai

غزل · Ghazal

کون ہے قوم کا معمار چلو دیکھیں گے کس میں ہے جذبۂ ایثار چلو دیکھیں گے جن کے سائے میں بڑا دل کو سکوں ملتا تھا کیا سلامت ہیں وہ اشجار چلو دیکھیں گے وقت کی دھند میں ممکن ہے بچھڑ جائے گا آدمی جو ہے ملنسار چلو دیکھیں گے قدرداں اس کے ہنر کے ہیں ہزاروں پھر بھی کیوں پریشان ہے فنکار چلو دیکھیں گے ایک ہی گھر میں رہا کرتے تھے دونوں بھائی کیوں کھڑی ہو گئی دیوار چلو دیکھیں گے در و دیوار عمارت کے تو فولادی تھے ہو گئی کیسے وہ مسمار چلو دیکھیں گے اس کی گفتاری میں شامل ہے صداقت کی مہک کون ہے صاحب کردار چلو دیکھیں گے پیٹھ پہ وار نہیں کرتا سپاہی کوئی کون ہے فوج کا سالار چلو دیکھیں گے جس کی عظمت کا بیاں تم نے سنا ہے اے عزیزؔ اپنی آنکھوں سے وہ دربار چلو دیکھیں گے

kaun hai qaum kaa meamaar chalo dekheinge

Similar Poets