
Aziz Qadri
Aziz Qadri
Aziz Qadri
Ghazalغزل
kyaa khabar thi yak-ba-yak mahshar bapaa ho jaaegaa
کیا خبر تھی یک بیک محشر بپا ہو جائے گا وہ ذرا سی بات پر اتنا خفا ہو جائے گا دوست ہے ناراض ہے وہ کوئی دشمن تو نہیں میں جو بولوں گا تو خود ہی بولنا ہو جائے گا کیا ہوا گر اجنبی کی طرح پھرتا ہوں میں آج کل مجھے یہ شہر خود پہچانتا ہو جائے گا صبح تک اخبار کچھ بھوکے تو رہ سکتے نہیں رات تو ہونے دو کوئی حادثہ ہو جائے گا چھانٹ دے جلاد تو قطرے ہمارے خون کے اور بھی کچھ رنگ مقتل خوش نما ہو جائے گا فکر مستقبل سے کیوں مر مر کے جیتا ہے عزیزؔ ہونے والا ہے جو قسمت کا لکھا ہو جائے گا
zindagaani ko sukun haasil kisi pahlu nahin
زندگانی کو سکوں حاصل کسی پہلو نہیں دل کے بہلانے کو یوں تو سب ہے لیکن تو نہیں اے تسلی دینے والے تجھ کو اس کی کیا خبر حسرتوں کا خون ہے پلکوں پہ یہ آنسو نہیں سر جھکائے گوشۂ تنہائی میں بیٹھا ہوں میں اب تصور میں کسی کے لب نہیں گیسو نہیں لے چلا ہے کھینچ کر اک بے وفا کی بزم میں کیا کروں خود اپنے دل پر بھی مرا قابو نہیں صرف اپنوں میں نہیں غیروں میں بھی مقبول ہوں یہ محبت کا کرشمہ ہے کوئی جادو نہیں اب یہ عالم ہے کہ شاخوں پر گلستاں میں عزیزؔ پھول تو کھلتے ہی رہتے ہیں مگر خوشبو نہیں
ghamon se tang huun kab tak mujhe hansaaegaa
غموں سے تنگ ہوں کب تک مجھے ہنسائے گا کہاں کہاں وہ مرے ساتھ ساتھ آئے گا سکوت شام ہے تنہا ہوں اپنے گھر میں ہوں ترے سوا مجھے اب کون یاد آئے گا حریف ہوں میں تشدد کا ذہن قاتل میں تمہارا نام نہیں میرا نام آئے گا جلا تھا گھر تو بجھانے سب آ گئے تھے مگر یہ دل کی آگ ہے اب کون اسے بجھائے گا اسی امید پہ میں اس کے کام آیا تھا کہ دوست ہے تو کبھی میرے کام آئے گا
thaa yaqin kaa tazkira vahm-o-gumaan tak le gae
تھا یقیں کا تذکرہ وہم و گماں تک لے گئے بات نکلی تھی کہاں کی تم کہاں تک لے گئے تم گئے اور اعتبار راز داں تک لے گئے بات جو میری تھی غیروں کی زباں تک لے گئے منزل دار و رسن کے حسن کا طالب تھا میں راہبر مجھ کو فقط کوئے بتاں تک لے گئے کیوں کسی کو زحمت بیداد دیں خوددار ہیں آگ کے شعلوں کو ہم خود آشیاں تک لے گئے سرفروشی نے بڑھا دی اور بھی کچھ آبرو لوگ دامن کی ہمارے دھجیاں تک لے گئے فیصلے دیتے رہے آتش بیانی کے خلاف مسئلہ جب کوئی ہم اہل زباں تک لے گئے آئے جب جھونکے ہواؤں کے تو مقتل میں عزیزؔ گرمیاں میرے لبوں کی گلستاں تک لے گئے
mire dil mein zakhm hi zakhm hain mujhe taab-e-zabt rahi nahin
مرے دل میں زخم ہی زخم ہیں مجھے تاب ضبط رہی نہیں میں الم نصیب ہوں آج کل مری زندگی میں خوشی نہیں انہیں رازدار بنا لیا انہیں حال دل کا سنا دیا جنہیں درد کوئی ملا نہیں جنہیں چوٹ کوئی لگی نہیں سبھی تلخیوں کو بھلا دیا سبھی رنجشوں کو مٹا دیا مرے دوست مجھ پہ یقین کر مرے دل میں کوئی کمی نہیں وہی بے بسی وہی بے کسی وہی اضطراب ہے آج بھی وہ جو آگ تو نے لگائی تھی مری زندگی میں بجھی نہیں کوئی اور کرتا جو بے رخی تو گلہ نہیں تھا مرا کوئی مجھے صرف اس کا ملال ہے مری بات تو نے سنی نہیں
zakhm ko zakhm nahin jism ki zinat samjho
زخم کو زخم نہیں جسم کی زینت سمجھو زندہ دل ہو تو ہر اک رنج کو راحت سمجھو سادگی اتنی بھی اچھی نہیں ناداں نہ بنو پیار کو پیار عداوت کو عداوت سمجھو شاخ گل سے مجھے تشبیہ نہ دو ضد نہ کرو آگ میں جلتی ہوئی کوئی عمارت سمجھو جلد بازی میں کوئی رائے نہ قائم کر لو غور سے خط کو پڑھو خط کی عبارت سمجھو ایک بیدار نفس شہر میں زندہ ہے ابھی قدر داران جنوں یہ بھی غنیمت سمجھو خود نمائی کا ذریعہ ہوں مری قدر کرو آئنہ ہوں مجھے چہروں کی امانت سمجھو تلخ گو ہو کے بھی ہر حال میں مخلص ہوں عزیزؔ میری عادت کو نہ دیکھو مری فطرت سمجھو





