Aziz Sabri
کمال حسن کا جب بھی خیال آیا ہے مثال شعر ترا نام دل پہ اترا ہے میں اپنے آپ کو دیکھوں تو کس طرح دیکھوں کہ میرے گرد مری ذات ہی کا پردہ ہے میں فلسفی نہ پیمبر کہ راہ بتلاؤں ہر ایک شخص مجھی سے سوال کرتا ہے یہ سچ ہے میں بھی تغیر کی زد سے بچ نہ سکا سوال یہ ہے کہ تو بھی تو کتنا بدلا ہے ترے خلوص کی چادر سمٹ گئی شاید مرا وجود مجھے اجنبی سا لگتا ہے ابھی تو حالت دل کا سدھار ہے مشکل ابھی تو تیری جدائی کا زخم تازہ ہے عزیزؔ اپنے تضادات ہی مٹا ڈالو یہ کون پوچھ رہا ہے زمانہ کیسا ہے
kamaal-e-husn kaa jab bhi khayaal aayaa hai