
Azmat Bhopali
Azmat Bhopali
Azmat Bhopali
Ghazalغزل
اجل بھی ساتھ تھی ہر لمحہ زندگی کی طرح تمہارے عہد میں جینا تھا خودکشی کی طرح اندھیری رات میں جنگل کی خامشی کی طرح یہ کون پاس سے گزرا ہے آپ ہی کی طرح چمن کو سیکڑوں پیراہن بہار ملے مگر کھلا نہ کوئی زخم دل کلی کی طرح نہ اعتماد کرم ہے نہ اعتبار وفا ہے دوستی بھی زمانے کی دشمنی کی طرح کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کو اس زمانے میں کراہیں ہوتی ہیں محسوس نغمگی کی طرح نہ ہم خیال ہے کوئی نہ آشنا میرا میں اپنے شہر میں پھرتا ہوں اجنبی کی طرح سناؤں کس کو غم دل کی داستاں عظمتؔ ملا نہ دشمن جاں کوئی آدمی کی طرح
ajal bhi saath thi har lamha zindagi ki tarah
خموشی بھی زبان مدعا معلوم ہوتی ہے محبت التجا ہی التجا معلوم ہوتی ہے میں اپنے خون ناحق کی اب ان سے داد کیا چاہوں نظر ان کی ندامت آشنا معلوم ہوتی ہے مجھے تو اپنی بربادی کا شکوہ ہے مقدر سے یہ میں نے کب کہا ان کی خطا معلوم ہوتی ہے مجھے برباد غم ہو کر ترے در تک پہنچنا ہے یہ بربادی مری خود رہنما معلوم ہوتی ہے جوانی اور بے پروا خرامی اے معاذ اللہ قیامت ہے قیامت زیر پا معلوم ہوتی ہے الگ ہے سب سے انداز جنوں میری محبت کا مری وحشت زمانے سے جدا معلوم ہوتی ہے مری ہر بات عظمتؔ ترجمان اہل عالم ہے یہ دنیا مجھ کو میری ہم نوا معلوم ہوتی ہے
khamoshi bhi zabaan-e-muddaaa maalum hoti hai
دیکھا نہ ان کو جان کے بچ کر نکل گئے یہ ایک چال ہم بھی قیامت کی چل گئے ہم راہ زندگی میں بھٹک کر سنبھل گئے ہر قافلہ کو چھوڑ کے آگے نکل گئے خوشیوں کا ذکر کیا کہ فریب حیات تھیں غم معتبر تھے عشق کے سانچے میں ڈھل گئے کیا غم شب الم کا ابھرنے دو تیرگی سینے میں سو چراغ سر شام جل گئے دیکھا جب اہل بزم نے مجھ کج کلاہ کو نظریں بدل گئیں کبھی تیور بدل گئے اے ہم نشیں نہ پوچھ مآل شب امید جو خواب ہم نے دیکھے تھے وہ خواب جل گئے عظمتؔ یہ کیا ہوا کہ تمہارے تمام راز اشکوں میں ڈھل گئے کبھی شعروں میں ڈھل گئے
dekhaa na un ko jaan ke bach kar nikal gae
کچھ یہاں فرق ہے اپنے کا نہ بیگانے کا ایک دستور ہے ہر دور میں میخانے کا رقص مینا ہے نہ وہ دور ہے پیمانے کا ان دنوں حال ہی کچھ اور ہے میخانے کا میں تو ہر حال میں جی لوں گا مگر جلوۂ دوست بن ترے دل نہیں گوشہ ہے یہ ویرانے کا شہرت عام تو حاصل تھی پر ایسی بھی نہ تھی لوگ عنوان بنا لیں مجھے افسانے کا وہ گیا وقت کہ جب دل کو نہ تھی غم سے نجات یہ زمانہ تو ہے ہنس ہنس کے جئے جانے کا ایسے کھوئے رہے ہم راہ روی میں عظمتؔ ہوش آیا نہیں منزل پہ ٹھہر جانے کا
kuchh yahaan farq hai apne kaa na begaane kaa
جو تم آؤ تو پھر جینے کے ساماں ہو بھی سکتے ہیں رفو یہ چاک دامان و گریباں ہو بھی سکتے ہیں وہ آنکھیں پاسباں ہوں دل کی تو دل کا پتا کیسا کہیں گلچیں نگہبان گلستاں ہو بھی سکتے ہیں جنہیں اب تک نہ آیا ہنس کے موج غم کو ٹھکرانا وہ کم ہمت کسی دن نذر طوفاں ہو بھی سکتے ہیں زمانہ منتظر ہے اک نئے رنگ حقیقت کا یہ افسانے کہیں تاریخ انساں ہو بھی سکتے ہیں ہمیں پر عام ہیں دور وفا میں ان کی بیدادیں ہمیں پر ختم سارے عہد و پیماں ہو بھی سکتے ہیں جو بے مقصد تمناؤں کا گہوارہ رہا برسوں کہیں اس دل کی آبادی کے امکاں ہو بھی سکتے ہیں میں اپنی داستان غم کو کیا عنوان دوں عظمتؔ مرتب دل کے اوراق پریشاں ہو بھی سکتے ہیں
jo tum aao to phir jiine ke saamaan ho bhi sakte hain
رہزنی ہے سر بازار تمہیں کیا معلوم تم تو ہو قافلہ سالار تمہیں کیا معلوم نام کس شے کا ہے آزار تمہیں کیا معلوم زندگی گل ہے کہ ہے خار تمہیں کیا معلوم محو آئینہ ہو تم تم کو خبر بھی کیوں ہو کون کس کا ہے طلب گار تمہیں کیا معلوم میرے ہنسنے پہ نہ جاؤ یہ مری عادت ہے دل پہ چلتی ہے جو تلوار تمہیں کیا معلوم سر بازار لہو بکتا ہے فن بکتا ہے ہاں مگر گرمئ بازار تمہیں کیا معلوم تم نے آنکھوں میں کوئی رات کہاں کاٹی ہے ٹوٹتے تاروں کی جھنکار تمہیں کیا معلوم جن کو آ جاتا ہے جینے کا سلیقہ عظمتؔ مسکراتے ہیں سر دار تمہیں کیا معلوم
rahzani hai sar-e-baazaar tumhein kyaa maalum





