SHAWORDS
Azwar Shirazi

Azwar Shirazi

Azwar Shirazi

Azwar Shirazi

poet
19Ghazal

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

اسے پتہ نہیں کیا لطف انکسار میں ہے جو شخص آج بھی مصروف کار زار میں ہے یہ سوچتے ہوئے سورج نے آنکھ جھپکائی فصیل شب سے پرے کوئی انتظار میں ہے جب اڑتی ریت نے پتلی پہ آ کے دستک دی تو جان پایا کہ صحرا بھی رہ گزار میں ہے جہان چھوڑ جہانوں کے محتسب سے پوچھ ہماری گریہ و زاری کسی شمار میں ہے بڑے مکان کے سارے مکین بھول گئے ہوا کا زور پرندوں کے اختیار میں ہے مرے وجود کے ملبے کو سرسری نہ سمیٹ گئے دنوں کی چمک بھی تہہ غبار میں ہے شب فراق ترا ساتھ کس طرح دوں گا تمام دن کی تھکن جسم کے مدار میں ہے تڑپ رہا ہوں میں جس فرد کے لیے ازورؔ یہاں سے دور کسی دوسرے دیار میں ہے

use pata nahin kyaa lutf inkisaar mein hai

3 views

غزل · Ghazal

گو اب مرے وجود پہ سر ہے نہ دوش ہے پھر بھی وہی جنوں وہی جوش و خروش ہے تجھ سا کوئی نہیں ہے وگرنہ جہان میں کوئی ذہین ہے تو کوئی سخت کوش ہے تو نے رکھا نہ حلقۂ احباب میں جسے وہ شخص آج بھی ترا حلقہ بگوش ہے رن میں ہمیں رجز کی ضرورت نہیں کہ اب اتنا بدن میں خون نہیں جتنا جوش ہے ادراک سے فزوں ہے مری حالت جنون تو جانتا نہیں کہ تجھے عقل و ہوش ہے انسان کے مزاج میں یکسانیت نہیں میں کیسے مان جاؤں کہ بندہ سروش ہے اتنا غرور قصر شہی پر نہ کیجیے یاں کوئی مستقل نہیں خانہ بدوش ہے بس میں ہی چپ نہیں ہوں سر بوستان عشق بلبل بھی گل کے ساتھ برابر خموش ہے یہ کون پڑھ رہا ہے مراثی انیس کے ہر سمت مرحبا کی صدا زیب گوش ہے وہ آنکھ آنکھ ہے کہ جو رکھتی ہے معرفت وہ گوش گوش ہے جو حقیقت نیوش ہے میں جو ہوا ہوں قریہ بہ قریہ ذلیل و خوار اس میں بھی تیرے طرز تغافل کا دوش ہے واعظ برا نہ کہہ مری بزم نشاط کو یاں پر تری بہشت سے کم ناؤ نوش ہے اتنی شفق نما ہے رخ یار کی پھبن جتنی چراغ شام کی لو سرخ پوش ہے

go ab mire vujud pe sar hai na dosh hai

3 views

غزل · Ghazal

فوراً سپاہ شوم کی للکار بند ہو یوںہی الف جلال سے میرا سمند ہو اپنے ہی دل پہ جب مرا قابو نہیں رہا کیسے کسی جہان پہ میری کمند ہو تیرے نواح میں کئی کچے مکان ہیں اتنا نہ سطح آب سے دریا بلند ہو انسانیت وجود کے جوہر کا نام ہے سو آنکھ نم نہ ہو بھی تو دل درد مند ہو اکتا گیا ہوں دیکھ کے ہموار زندگی جی چاہتا ہے اب کہیں پست و بلند ہو کرتا نہیں کسی کے سہارے پہ انحصار جس شخص کا مزاج حقیقت پسند ہو چلتا ہوں میں بھی ساتھ معافی کے واسطے ممکن ہے میری ذات سے پہنچا گزند ہو تب تک کسی کے عشق کا دعویٰ دروغ ہے جب تک جگر نہ سوختگی سے سپند ہو میرا نشان کون و مکاں ڈھونڈتے پھریں ایسی حدود جسم سے باہر زقند ہو

fauran sipaah-e-shum ki lalkaar band ho

2 views

غزل · Ghazal

میری آمد پہ سجاتے تھے جو رستہ میرا دل کیا ہے انہی ہاتھوں نے شکستہ میرا بھیڑ کو اپنے خیالات بتا سکتا نہیں ورنہ خوں پانی سے ہو جائے گا سستا میرا کیسے تہذیب عزا داری سمجھ پائے گا جس نے دیکھا ہی نہیں ماتمی دستہ میرا بس اسی زعم میں برباد کیا ہے خود کو موت کے کام نہ آئے تن خستہ میرا روٹی ہوتی نہ تھی اور میری جماعت کے دوست توڑ دیتے تھے بھرم کھول کے بستہ میرا لوٹ کے آ جا مجھے چھوڑ کے جانے والے دل تری دید کو اب بھی ہے ترستا میرا گر مجھے یار کے پہلو میں جگہ مل جاتی قہر خود پر نہ شب و روز برستا میرا غیر آباد علاقے بھی بسائے میں نے مجھ سے لیکن دل ویراں نہیں بستا میرا پھر کبھی ہاتھ نہ اٹھ پائے دعا کی خاطر اتنا دشمن نے کیا پہلو شکستہ میرا میں نے جب دودھ پلایا تھا محبت سے اسے کیسے ممکن تھا مجھے سانپ نہ ڈستا میرا

meri aamad pe sajaate the jo rasta meraa

2 views

غزل · Ghazal

جنوں کے ہاتھ سے خوار و خجل نہیں ہوتا جو اپنے آپ میں اتنا مخل نہیں ہوتا کبھی کبھی نکل آتا ہوں اپنے آپ سے میں کبھی کبھی مرے سینے میں دل نہیں ہوتا غموں نے کی ہے سلیقے سے تربیت میری میں بات بات پہ اب مشتعل نہیں ہوتا تجھے ملی ہے پذیرائی تو غرور نہ کر کسی کا نام و نشاں مستقل نہیں ہوتا جو ہر مہینے اترتا ہے میرے لوگوں پر عذاب ہوتا ہے بجلی کا بل نہیں ہوتا کسی کسی پہ عنایت خدا کی ہوتی ہے ہر اک حسین کے ہونٹوں پہ تل نہیں ہوتا زمیں پہ بیٹھ کے کرتا ہوں گریہ و زاری یہی سبب ہے کہ بے آب و گل نہیں ہوتا یہ اور بات کہ برداشت کر لیا میں نے وگرنہ کون سا غم جاں گسل نہیں ہوتا بہت ٹھکانے ہیں اس شخص کے مگر پھر بھی وہ میرے دل سے کہیں منتقل نہیں ہوتا خوشا وہ آنکھ جو نم سے چمکتی رہتی ہے خوشا وہ دل کہ جو پتھر کی سل نہیں ہوتا جگر کے گھاؤ کو چارہ گری سے کیا مطلب یہ زخم وہ ہے کہ جو مندمل نہیں ہوتا وہی تو ہوتا ہے کچھ کر گزرنے کا لمحہ میں اپنے آپ سے جب متصل نہیں ہوتا

junun ke haath se khvaar-o-khajil nahin hotaa

2 views

غزل · Ghazal

وغا میں کوئی بھی ایسا عدو نہیں آیا ہماری تیغ پہ جس کا لہو نہیں آیا یہ مت سمجھ کہ مجھے جاں عزیز ہے اپنی اگر کبھی تہ خنجر گلو نہیں آیا ہماری پرسش احوال کے لیے اکثر ترا خیال تو آیا ہے تو نہیں آیا وہ ناتواں تھا کہ تیغ عدو کے چلنے پر مرے وجود سے باہر لہو نہیں آیا میں ایسا پیڑ ہوں جس پر بہار ہو کہ خزاں کسی بھی دور میں بار نمو نہیں آیا وہ ناامید ہوا ہوں خدا کے ہوتے ہوئے مری زبان پہ لا تقنطو نہیں آیا محاذ عشق سے ناکام آ گیا لیکن خدا کا شکر کہ بے آبرو نہیں آیا کہیں نہ پھر سے اماوس نے گھیر رکھا ہو جو چاند آج سر آب جو نہیں آیا ہاں وہ طبیب تو آیا تھا نیشتر کے لیے برائے زحمت کار رفو نہیں آیا مجھے پتہ ہے محبت ہے کیا ہوس ہے کیا سو اس کو دیکھ تو آیا ہوں چھو نہیں آیا وہ عکس مجھ کو مکمل دکھائی دے کیسے جو آئنے میں کبھی ہو بہو نہیں آیا

vighaa mein koi bhi aisaa 'adu nahin aayaa

1 views

Similar Poets