SHAWORDS
Babar Ali Asad

Babar Ali Asad

Babar Ali Asad

Babar Ali Asad

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

aise hairaan hain ki hairat ki koi had hi nahin

ایسے حیراں ہیں کہ حیرت کی کوئی حد ہی نہیں عکس ٹوٹا ہے مگر آئنے پہ زد ہی نہیں ہم ترے ظرف کی قامت سے بہت چھوٹے ہیں تیرے رتبے کے برابر تو یہاں قد ہی نہیں اب یہی آخری حل ہے کہ مدینے پہنچوں اک وہی در ہے کہ جس در پہ کوئی رد ہی نہیں ہر بڑھاپے کو بزرگی بھی نہیں مل سکتی تنگ گلیوں کے نصیبوں میں یہ برگد ہی نہیں اپنے لہجے کے تلفظ سے یہ تشدید ہٹا دیکھ الفاظ کے چہروں پہ کہیں شد ہی نہیں

غزل · Ghazal

tiri aavaaz par ruke hi nahin

تری آواز پر رکے ہی نہیں سو کئی واقعے ہوئے ہی نہیں اس نے جتنے دئے میں لے آیا مفت کے سانس تھے گنے ہی نہیں معجزے وقت پر نہیں ہوتے سانحے وقت دیکھتے ہی نہیں جھوٹ ہے دل بدر کئے گئے ہیں سچ کہیں ہم وہاں پہ تھے ہی نہیں سب حقیقت پسند ہو گئے ہیں لوگ اب خواب دیکھتے ہی نہیں جو ترے نام میں نہیں آتے ایسے حرفوں کو جانتے ہی نہیں رس رہے ہیں جگہ جگہ سے اسدؔ اس نے کچھ زخم تو سیے ہی نہیں

غزل · Ghazal

saanson ki ravaani mein khalal aane lagaa hai

سانسوں کی روانی میں خلل آنے لگا ہے ٹھہرو کہ بچھڑ جانے کا پل آنے لگا ہے کہتے ہو تو لہجے کی کمر سیدھی نہ کر لوں مانا کہ مرے عجز پہ پھل آنے لگا ہے یہ کیا کہ ہر اک وقت کی بیزار سماعت ہر لفظ کی پیشانی پہ بل آنے لگا ہے لاؤ مری آواز کی دستار اٹھا کر کم ظرف کوئی حد سے نکل آنے لگا ہے لو ختم ہوئی عمر مہ و سال کی گنتی تمہید تھی جس کی وہی کل آنے لگا ہے

غزل · Ghazal

havaa se rabt zaraa soch kar banaanaa thaa

ہوا سے ربط ذرا سوچ کر بنانا تھا ہمیں زمیں پہ اترنا تھا گھر بنانا تھا خوشی بنانی تھی پہلے کسی تعلق کی پھر اس خوشی کو بچانے کا ڈر بنانا تھا ہماری آنکھ کو اب تک سمجھ نہیں آئی کہ پہلے اشک یا پہلے کہر بنانا تھا ارے یہ عشق بھی تو منچلے کا سودا ہے ہمارے بس میں جو ہوتا کدھر بنانا تھا ہوا تو روز سناتی تھی دھوپ روزن سے مگر ہمیں یہاں سورج سا در بنانا تھا سنو یہ عیب کسی رنگ سے نہیں چھپنے بس ایک حل تھا ہمیں توڑ کر بنانا تھا معاف کرنا تجھے کھل کے لکھ نہیں پائے ہمیں یہ قصہ ذرا مختصر بنانا تھا

غزل · Ghazal

ham aakhiri hain hamaare jaise so ab hamaaraa khalaa banegaa

ہم آخری ہیں ہمارے جیسے سو اب ہمارا خلا بنے گا نہ میں ہی بار دگر ہوں ممکن نہ تجھ سا ہی دوسرا بنے گا یہ تنگ ذہنوں سے بات کر کے رکاوٹیں ہی نہ دور کر لیں کئی مزاجوں کی خیر ہوگی اگر یہ رستہ کھلا بنے گا قسم تری بے نیازیوں کی میں سب یہ پہلے ہی جانتا تھا مجھے کسی نے کہا ہوا تھا یہ تیرے ہاتھوں خدا بنے گا نہیں محبت وہ کار امکاں دعا پہ رکھیں خدا پہ چھوڑیں تم اس کو فرضی سے مت بناؤ معاملہ مسئلہ بنے گا ترے ہنر کی ہو خیر آزر ہمیں جو توڑو تو دھیان رکھیو ہماری مٹی تو بھر بھری ہے ہماری مٹی سے کیا بنے گا

غزل · Ghazal

jo is tarah se main khud ko pachhaaD letaa huun

جو اس طرح سے میں خود کو پچھاڑ لیتا ہوں بنا بنایا تعلق بگاڑ لیتا ہوں میں نا سمجھ تو نہیں رنجشوں سے لڑتا پھروں میں رخ بدل کے محبت کی آڑ لیتا ہوں جو گرد ذہن پہ گرتی ہے بد گمانی کی میں گاہے گاہے اسے خود ہی جھاڑ لیتا ہوں میں راحتوں سے کبھی مطمئن نہیں ہوتا میں سوچ سوچ کے خوشیاں اجاڑ لیتا ہوں یہ درد بھی یوں ہی اٹکھیلیاں نہیں کرتے کبھی کبھی میں انہیں چھیڑ چھاڑ لیتا ہوں تمہارے دکھ میں کوئی اور دکھ ملاتا نہیں میں شب گزار کے خیمہ اکھاڑ لیتا ہوں کتاب زیست تجھے غم نہیں تھماتا کوئی میں دن گزار کے صفحے کو پھاڑ لیتا ہوں

Similar Poets