
Badiuzzaman Sahar
Badiuzzaman Sahar
Badiuzzaman Sahar
Ghazalغزل
مسام سنگ سے اس دم پسینے خوں کے چلتے ہیں کفن بردوش جب ہم کوئے قاتل میں نکلتے ہیں کہاں اہل جنوں چھاؤں میں زلفوں کی ٹہلتے ہیں مشقت کی کڑی جب دھوپ ہوتی ہے تو چلتے ہیں تمہاری انجمن میں صرف فرزانے بہلتے ہیں جنوں کے حوصلے تو جا کے مقتل میں نکلتے ہیں نسیم نو بہاری آ تجھے گلشن میں پہنچا دیں یہ صحرا ہے یہاں تو صرف دیوانے ٹہلتے ہیں ہمہ دم ناخداؤ بادبانوں پہ نظر رکھنا نہ جانے کب یہ آب تہہ نشیں تیور بدلتے ہیں وہ ہے کم ظرف جو دو گھونٹ پی کر ڈگمگا جائے ہم عالی ظرف جتنا پیتے ہیں اتنا سنبھلتے ہیں ہمارا دامن تر شیخ کے جبے سے کیا کم ہے کہ اس تر دامنی میں مغفرت کے دیپ جلتے ہیں اسے اندیشہ ہائے آبلہ پائی سحرؔ کیوں ہو وہ جس کے نقش پا سے انگنت رستے نکلتے ہیں
masaam-e-sang se us dam pasine khuun ke chalte hain
مری خطا سے بڑی تیری درگزر ہوگی تو پھر دعا مری کاہے کو بے اثر ہوگی یہ میرے دل کے سفر کی ہے کون سی منزل پتہ نہیں ہے مسافر کو تو خبر ہوگی نہا کے شب میں ہی گیسو جھٹک کے کھول دئے تو کس طرح سے مری جان اب سحر ہوگی خدا دراز کرے عمر تیری زلفوں کی شب وصال بلا سے جو مختصر ہوگی جو مجھ سے لینا ہے لے لے متاع فکر و نظر وگرنہ دنیا بہ کشکول در بدر ہوگی اٹھے گا شور قیامت بپے گا حشر سحرؔ جو ان کی گرگ شناسائی معتبر ہوگی
miri khataa se baDi teri darguzar hogi
ہے نیاز عشق سے بے خبر جو نہ نکلے پردۂ ناز سے دل غزنویؔ میں تڑپ تھی کیا کوئی پوچھے زلف ایازؔ سے مرے حال دل کی روایتیں یہ چھپی چھپی سی حکایتیں یہ کہاں کہاں نہ پڑھی گئیں ترے روئے مصحف ناز سے مرے دل کو آ مرے میت لے مرے جسم و جان کو جیت لے کہیں ہار جائے نہ زندگی غم ہجر ہائے دراز سے یہ شکستہ تار یہ کشتہ تن یہ غنا میں ڈوبا ہوا بدن سنو دھیمے دھیمے ہے نغمہ زن یہ خموشیٔ لب ساز سے یہ ہے کور چشموں کی انجمن ہے بلا سے میری یہ ضو فگن یہاں کس نظر میں ہے بانکپن جو ملائے دیدۂ باز سے مرے دل کے تار کو چھیڑ کر جو اٹھے یہ نالۂ پر اثر تو جلا نہ دے ترے بام و در یہ شرار شعلۂ ساز سے یہ کمال شانہ نہیں سحرؔ ہے جمال آئینۂ نظر یہ پریشاں کیسے سنور گئی ذرا پوچھو زلف دراز سے
hai niyaaz-e-‘ishq se be-khabar jo na nikle parda-e-naaz se
شراب ارغوانی خم میں رکھی تھی نہ مینے میں یہ کس کا خون ہے ساقی بتا اس آبگینے میں لنڈھاتے پھرتے ہو تم روز پیمانے پہ پیمانہ ہمیں شبنم بڑھا دیتے ہو ساون کے مہینے میں ہماری بادہ خواری پر اب ان کو بھی شکایت ہے کٹی ہے عمر جن کی آدمی کا خون پینے میں ادھر کچھ دوریوں کا سلسلہ بڑھتا رہا ہم سے ادھر کچھ فاصلے کم ہو گئے ہیں مرنے جینے میں دکھائیں کس کو جا کے ہم شکستہ تار پیراہن لگے ہیں سب یہاں اپنی قبا کے چاک سینے میں صبا خوشبو کی طالب ہے تو مل مشکیں کمندوں سے کہیں عنبر کی بو ہوتی ہے مردوں کی پسینے میں سکوں کے دن گزر جائیں گے اک دن اہل ساحل کے ہم اہل موج وہ طوفان لائیں گے سفینے میں سحرؔ منصب ہمارا بھی ریاکاری اگر ہوتا تو ہم بھی شیخ کے شامل نظر آتے مدینے میں
sharaab-e-arghavaani khum mein rakkhi thi na miine mein
بقعۂ نور ہر اک راہ گزر ہو جائے وہ مری رات سے گزرے تو سحر ہو جائے حسن تاباں کی تجلی کا وہ عالم ہو کہ بس اک جھلک دیکھ کے تسکین نظر ہو جائے کوئی تو جلوہ کناں ہو مہ و انجم کی طرح دیدۂ شوق کی جو راہ گزر ہو جائے عارض حسن پہ راتوں کا بسیرا ہے تو کیا رخ سے جھٹکا دے جو زلفوں کو سحر ہو جائے ہم کہ موسیٰ نہیں کوئی جو تقاضا کرتے حسن خود چاہے تو محفوظ نظر ہو جائے ہم وفا کر کے بھی بدنام بہت ہیں یارو وہ جفا بھی جو کریں ہیں تو ہنر ہو جائے تم کریدا نہ کرو دل کی دبی راکھوں کو شعلہ شعلہ نہ کہیں خاک شرر ہو جائے سامنے اس کے سمندر کی حقیقت کیا ہے ایک قطرہ جو گنہ گار گہر ہو جائے نوع آدم میں کوئی تخم سحرؔ ہے کہ نہیں خاک کے پردے سے نکلے تو بشر ہو جائے
buq’a-e-nur har ik raahguzar ho jaae
کھولے ہوئے گیسو ہو پریشان لگو ہو اس دل کی طرح تم بھی مری جان لگو ہو دلبر ہو دل آرا ہو دل آرام ہو پھر بھی تم آفت جاں موت کا سامان لگو ہو مسجود تمنا ہو کہ معبود محبت بت خانۂ دل کا مرے ارمان لگو ہو سجدوں سا تڑپ جاؤ ہو پیشانیٔ دل میں کافر جو بنا دے ہے وہ ایمان لگو ہو تصویر تغزل بھی ہو چہرہ بھی کتابی آؤ نا پڑھیں تم مرا دیوان لگو ہو پھر شہر تمنا میں کوئی خون ہوا ہے یہ بات نئی ہے جو پشیمان لگو ہو اس ذہن سے گزرے ہو سحرؔ یوں تو ہمیشہ تم کون ہو بھولی ہوئی پہچان لگو ہو
khole hue gesu ho pareshaan lago ho





