
Badnam Nazar
Badnam Nazar
Badnam Nazar
Ghazalغزل
یہ سنگ و خشت کی بارش یہ زندگی کا بدن لہو لہو نظر آتا ہے آدمی کا بدن کہو اندھیروں سے زلفیں بکھیر دیں اپنی تھکا تھکا ہوا لگتا ہے روشنی کا بدن وہ زخم ہیں کہ جو دیکھو تو آنکھ بجھ جائے بہت حسین ہے یوں تو مری ہنسی کا بدن یہ کس کا لمس ملا ہے زمین گلشن کو تمہارے جسم کی صورت ہے ہر کلی کا بدن دہکتے جسم پہ ہلکے سے نائلن کا لباس ہو جیسے جھیل کے پانی میں چاندنی کا بدن خطا معاف مگر اہل دل نے بھی اکثر جنوں کے نام پہ نوچا ہے عاشقی کا بدن
ye sang-o-khisht ki baarish ye zindagi kaa badan
حیات ڈھونڈ رہا ہوں قضا کی راہوں میں پناہ مانگنے آیا ہوں بے پناہوں میں بدن ممی تھا نظر برف سانس کافوری تمام رات گزاری ہے سرد باہوں میں اب ان میں شعلے جہنم کے رقص کرتے ہیں بسے تھے کتنے ہی فردوس جن نگاہوں میں میں نور ہی ہوں نہ گھبرائیں مجھ سے نور طلب یہ اور بات ہے برسوں رہا سیاہوں میں بجھی جو رات تو اپنی گلی کی یاد آئی الجھ گیا تھا میں رنگین شاہراہوں میں نہ جانے کیا ہوا اپنا بھی اب نہیں ہے وہ جو ایک عمر تھا دنیا کے خیر خواہوں میں مری تلاش کو جس علم سے قرار آئے نہ خانقاہوں میں پائی نہ درس گاہوں میں
hayaat DhunD rahaa huun qazaa ki raahon mein
گرتی دیواروں پہ کچھ پرچھائیاں رہنے لگیں گھر کو ویراں دیکھ کر تنہائیاں رہنے لگیں تاکہ زندہ رہ سکے ہر زخم دل کی تازگی ساتھ میرے ہر گھڑی پروائیاں رہنے لگیں جھومتی شاخوں میں کوئی پھل یا پھول آتا نہیں بانجھ پیڑوں میں فقط انگڑائیاں رہنے لگیں حق کی راہوں پر بہت دشوار ہے چلنا نظر میرے پیچھے پیچھے بس رسوائیاں رہنے لگیں
girti divaaron pe kuchh parchhaaiyaan rahne lagin
سر فلک ہے کہ زیر زمیں پتہ نہ چلا ترا وجود تو ہے پر کہیں پتہ نہ چلا کہاں چلے گئے وہ بوریا نشیں آخر تمہیں تو کچھ بھی اے مسند نشیں پتہ نہ چلا فلک کا بوجھ زمیں نے اٹھا لیا لیکن فلک سے بھی ہے اٹھی یہ زمیں پتہ نہ چلا تمہارے کوچے تک آیا تھا ایک آوارہ پھر اس کے بعد تو اس کا کہیں پتہ نہ چلا وہ تیرا در تھا کہ کاشی کہ خانۂ کعبہ کہاں جھکائی تھی میں نے جبیں پتہ نہ چلا عجیب تھی وہ شب وصل بھی نظرؔ جس میں وہ میرے پاس بھی تھا یا نہیں پتہ نہ چلا سڑک کی بھیڑ نے اس طرح مجھ کو نوچا تھا کہاں تھی جیب کہاں آستیں پتہ نہ چلا
sar-e-falak hai ki zer-e-zamin pata na chalaa
مری نگاہ کی کرنوں سے جب نہا جائے تم اس کو دیکھو تو بس دیکھتے رہا جائے کسی کے غم کے سہارے ہی جی لیا جائے جو یہ بھی پاس نہ ہووے تو کیا کیا جائے تمہارے ہونٹوں پہ تالے مری زبان پہ مہر چلو لتا کا کوئی گیت ہی سنا جائے یہ پیڑ بانجھ ہے معلوم ہے ہمیں لیکن جو پھل نہیں ہیں تو پھر پھول ہی چنا جائے حقیقتوں سے تو دن رات پالا پڑتا ہے کبھی کبھی کوئی افسانہ بھی سنا جائے نہ مر ہی جاتا ہے وہ اور نہ جی ہی پاتا ہے عجیب شخص ہے بس سوکھتا چلا جائے یہ بڑھتے لوگ یہ سکڑا ہوا حیات کا گھر کہو کہ اب کے کسی اور گھر خدا جائے کبھی تو اترے کوئی دل کے سونے آنگن میں پگھلتی آنکھوں میں اک خواب تو سما جائے بلندیوں پہ تو اک عمر کاٹ دی میں نے کبھی کبھی کسی پستی میں بھی گرا جائے ہر ایک آنکھ پگھلتی ہی جاتی ہے بدنامؔ ہر ایک چہرہ دھواں ہی دھواں ہوا جائے
miri nigaah ki kirnon se jab nahaa jaae
حیات ڈھونڈ رہا ہوں قضا کی راہوں میں پناہ مانگنے آیا ہوں بے پناہوں میں بدن ممی تھا نظر برف سانس کافوری تمام رات گزاری ہے سرد بانہوں میں اب ان میں شعلے جہنم کے رقص کرتے ہیں بسے تھے کتنے ہی فردوس جن نگاہوں میں بجھی جو رات تو اپنی گلی کی یاد آئی الجھ گیا تھا میں رنگین شاہراہوں میں نہ جانے کیا ہوا اپنا بھی اب نہیں ہے وہ جو ایک عمر تھا دنیا کے خیر خواہوں میں مری تلاش کو جس علم سے قرار آئے نہ خانقاہوں میں پائی نہ درس گاہوں میں
hayaat DhunDh rahaa huun qazaa ki raahon mein





