SHAWORDS
B

Badr Jameel

Badr Jameel

Badr Jameel

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

پرکھوں کی بو باس لیے پھرتا ہوں مٹھی بھر احساس لیے پھرتا ہوں چاروں اور سمندر اور میں پل پل ایک انجانی پیاس لیے پھرتا ہوں رام کو تو بن باس لیے پھرتا تھا میں خود میں بن باس لیے پھرتا ہوں محفل محفل خیمہ زن مایوسی منزل منزل آس لیے پھرتا ہوں ہر موسم کا کرب چھپا ہے مجھ میں میں ہر رت کی پیاس لیے پھرتا ہوں

purkhon ki bu baas liye phirtaa huun

غزل · Ghazal

سوز جنوں نے وقت سے ڈرنے نہیں دیا آسان راستوں سے گزرنے نہیں دیا ساحل پہ جا اترنا تو لمحوں کی بات تھی ایک بے دلی تھی جس نے ابھرنے نہیں دیا گھیرا کچھ اس طرح سے غم روزگار نے خود اپنے آپ میں بھی اترنے نہیں دیا اونچی حویلیوں نے بھی کیا ظلم ڈھائے ہیں سورج بھی آنگنوں میں اترنے نہیں دیا ایک سوز اندروں نے ہر اک موڑ پر جمیلؔ سچائیوں سے ہم کو مکرنے نہیں دیا

soz-e-junun ne vaqt se Darne nahin diyaa

غزل · Ghazal

وہ بیکلی ہے کوئی راستہ سجھائی نہ دے وہ شور ہے کہ خود اپنی صدا سنائی نہ دے میں کیا کروں گا بھلا جا کے اس بلندی پر جہاں سے میرا ہی سایہ مجھے دکھائی نہ دے جو مجھ کو درد کے اندھے کنویں میں پھینک آئے مرے وجود کو وہ کرب آشنائی نہ دے نہ جانے کون ہے مجھ میں جو ہر گھڑی مجھ کو کوئی سجھاؤ سا دیتا رہے دکھائی نہ دے جمیلؔ وقت سے آگے نکل گئے ہم لوگ زمانہ اب ہمیں الزام نارسائی نہ دے

vo bekali hai koi raasta sujhaai na de

غزل · Ghazal

پہلے تو کبھی وقت یہ ہم پر نہیں آیا ہم چلتے رہے چلتے رہے گھر نہیں آیا کیا لوگ تھے بستی میں کہ جلتی رہی بستی اور گھر سے نکل کر کوئی باہر نہیں آیا کیوں ولولے محدود ہوئے لفظ و بیاں تک کیوں دار تلک کوئی قد آور نہیں آیا اس بار بھی کیا یوں ہی گزر جائے گا ساون اس بار بھی تو پیڑ پہ پتھر نہیں آیا

pahle to kabhi vaqt ye ham par nahin aayaa

غزل · Ghazal

خوش قامتی کے زعم میں دانائی جائے گی سورج نہ دیکھ آنکھ کی بینائی جائے گی یا رب کوئی فرشتہ جسے دوست کہہ سکوں انسان کی تلاش میں بینائی جائے گی دو چار جھوٹ بول کے آئی بلا کو ٹال سچ بولنے کے جرم میں گویائی جائے گی نسلی رقابتوں میں گئے اپنے بام و در اب آپسی نفاق میں انگنائی جائے گی زخموں سے ہے جمیلؔ مذاق سخن میں جاں یہ بھر گئے تو پھر سخن آرائی جائے گی

khush-qaamati ke zoam mein daanaai jaaegi

Similar Poets