
Badr Mohammadi
Badr Mohammadi
Badr Mohammadi
Ghazalغزل
tumhaari yaad yuun ehsaas-e-tanhaai baDhaati hai
تمہاری یاد یوں احساس تنہائی بڑھاتی ہے کہ جیسے قیمتیں چیزوں کی مہنگائی بڑھاتی ہے نظر آتی ہے دنیا خوب صورت دیکھ کر تم کو تمہاری دید ان آنکھوں کی بینائی بڑھاتی ہے کسی کی آنکھوں میں غرقاب ہو کر ہم نے یہ جانا ندی کی قدر و قیمت اس کی گہرائی بڑھاتی ہے اگر دل ہو کشادہ تو خوشی رہتی ہے چہرے پر گھروں کی رونقیں جس طرح انگنائی بڑھاتی ہے محبت میں اضافے سے میاں ہشیار ہی رہنا یہ ایسی نیک نامی ہے جو رسوائی بڑھاتی ہے قیامت ہے نہیں کچھ دیکھتا اپنے سوا کوئی یہ دنیا کس لئے پھر بزم آرائی بڑھاتی ہے ملاقاتوں سے کوئی بدرؔ ہے گمنام سا لیکن مری گوشہ نشینی ہی شناسائی بڑھاتی ہے
chali na jaae ye jaan tan ke daaere se alag
چلی نہ جائے یہ جاں تن کے دائرے سے الگ مجھے نہ کیجئے یوں اپنے آسرے سے الگ جو اپنی آنکھوں میں خوابوں کو پالتا ہی نہیں حقیقتوں کے جہاں میں ہے وہ سرے سے الگ ہمارے دل میں محبت مقیم ہے اب بھی قیام تاج محل کب تھا آگرے سے الگ مری نگاہ میں سکہ ہر ایک چہرہ ہے میں کر رہا ہوں ابھی کھوٹے کو کھرے سے الگ دل و دماغ کی اس کشمکش سے باز آئے حیات چاہئے ہم کو مناظرے سے الگ طریقہ اور بھی ہے یار سے تخاطب کا کہ لفظ اور کوئی لاؤ اے ارے سے الگ وہ ایک شخص جو ہر گھر کی بات کرتا ہے اسے سمجھتی ہے دنیا معاشرے سے الگ
us se alag ho aisi miri zaat hi nahin
اس سے الگ ہو ایسی مری ذات ہی نہیں میرا نہیں ہے وہ تو کوئی بات ہی نہیں اوروں سے مل کے بچتا ہے کچھ وقت ہی کہاں ہوتی ہے خود سے میری ملاقات ہی نہیں جنبش ہے تن بدن میں دھڑکتا نہیں ہے دل یوں ہو گئے مشینی کہ جذبات ہی نہیں معدود چند ہیں یہ مگر قد الگ الگ اپنی تو انگلیوں میں مساوات ہی نہیں ایسی جگہ بھی ہے کہ جلاتے نہیں چراغ جیسے وہاں پہ آتی کبھی رات ہی نہیں رہتی ہے پیاس کب جو نظر سے نظر ملے آنکھوں سے بڑھ کے کوئی خرابات ہی نہیں اے بدرؔ شاعرانہ تعلی ہے خوب شے ایسا یہ دعویٰ ہے کہ جسے مات ہی نہیں
duur ghar se kahin is tarh bhi jaayaa jaae
دور گھر سے کہیں اس طرح بھی جایا جائے دیر تک دھوپ کی بارش میں نہایا جائے اپنی یادوں کو مرے پاس کوئی چھوڑ گیا غم جدا ہونے کا کس طرح بھلایا جائے سب پرائے ہوئے ہونے سے پرایا اس کے سوچتا ہوں کسے اب اپنا بنایا جائے دل دکھانے سے کسی کا انہیں ملتی ہے خوشی بات ایسی ہے تو پھر مجھ کو رلایا جائے ہونے والی ہے چراغوں کی حکومت قائم رات بھر کے لئے سورج کو چھپایا جائے خامشی دیکھ کے پھیلی ہوئی آبادی میں یہ پرندوں نے کہا شور مچایا جائے مل کے جینے کے لئے لوگ ہوئے ہیں یکجا زیست کا بوجھ ہے تنہا نہ اٹھایا جائے
tumhaari zulf kaa ho kar asiir zinda hai
تمہاری زلف کا ہو کر اسیر زندہ ہے کسی طرح سے سہی یہ فقیر زندہ ہے مکان ہستی کا فرد امیر زندہ ہے میں زندہ ہوں ابھی میرا ضمیر زندہ ہے ہماری خاک بس اپنی جگہ پہ ٹھہرے گی چلے چلو کہ ابھی تو خمیر زندہ ہے وہ پھول ہو گیا امن و امان کی خاطر لڑو نہ شیخ و برہمن کبیر زندہ ہے تڑپتی زندگی اخبار کے ورق بہ ورق بتا رہی ہیں یہ خبریں مدیر زندہ ہے بیان موت نے بخشی حیات کتنوں کو انیسؔ باقی ہے اب تک دبیرؔ زندہ ہے غزل کے جسم کو مرنے نہ دو تو بات بنے غزل کی روح میں اے بدرؔ میرؔ زندہ ہے
nazar hamaari sar-e-koh-e-tur aa jaae
نظر ہماری سر کوہ طور آ جائے دیار دل میں ذرا اس کا نور آ جائے وہ اتنی دور ہے مجھ سے کہ سوچتا ہوں میں بدن میں کاش ادائے طیور آ جائے سبب ہے خوب کہیں دور اس کے رہنے کا نظر کو دید کا پہلے شعور آ جائے ہجوم دہر میں چہرہ دکھائی دے اس کا بیان کوئی تو بین السطور آ جائے ہر ایک دل کو مسلسل ٹٹولتے رہئے نہ جانے کون سے دل میں فتور آ جائے پھر اس سے دور بہت دور ہو رہے گا خدا نہ حد کے پار دل ناصبور آ جائے چرائے فکر نہ آنکھیں یہ بدرؔ اس سے کہو تمہارے فن کا ہوا ہے ظہور آ جائے





