
Bahzad Fatami
Bahzad Fatami
Bahzad Fatami
Ghazalغزل
کیا کیجئے جو قدر شرافت نہیں رہی شاید کسی کو اس کی ضرورت نہیں رہی دامن کشاں گزرتے ہیں اک دوسرے سے لوگ پہلی سی اب وہ رسم مروت نہیں رہی شاداب تھے جو پھول تو خوشبو لٹاتے تھے پژمردہ ہو گئے تو سخاوت نہیں رہی بتلا دیا ہے ہم کو فسادات نے یہی خون بشر کی اب کوئی قیمت نہیں رہی
kyaa kijiye jo qadr-e-sharaafat nahin rahi
خزاں کا روپ نہ رنگ بہار اپنا ہے یہ کم نہیں کہ دل داغدار اپنا ہے پرکھ لو جنس ہنر کو مری نظر والو ابھی رواں قلم سحر کار اپنا ہے ادھر خرد کا تقاضہ ادھر پیام جنوں میں کیا بتاؤں کسے انتظار اپنا ہے نشاط و عیش کے لمحے تو عارضی ہیں فقط رفیق عمر غم پائیدار اپنا ہے مٹا ہی دے گی کسی دن یہ گردش دوراں وجود صورت نقش و نگار اپنا ہے بتا دیا ہے ہواؤں نے زرد پتوں کو خزاں میں کون دم انتشار اپنا ہے ملا ہی کیا ہمیں آخر رفاقت گل سے لپٹ رہا ہے جو دامن سے خار اپنا ہے کسی کے دامن رنگیں پہ میل کیا آئے اڑا جو راہ سے ہٹ کر غبار اپنا ہے دلاسے دے جو نہ امید ہی شب وعدہ تو کون اے خلش انتظار اپنا ہے بقدر ظرف ہی ملتی ہے دست ساقی سے اگرچہ بزم میں ہر بادہ خوار اپنا ہے پناہ دے جو کڑی دھوپ کی اذیت سے بس اک وہی شجر سایہ دار اپنا ہے فقیر مے کدہ ہم بھی تو ہیں مگر ساقی نہ جانیں کون سی صف میں شمار اپنا ہے خوشا وہ شمع لحد جس کی روشنی پھیلی جو بجھ گیا وہ چراغ مزار اپنا ہے کسی کو کیا کہیں بہزادؔ اس زمانے میں ہمیں کو خود نہیں جب اعتبار اپنا ہے
khizaan kaa ruup na rang-e-bahaar apnaa hai
مہلت ملے جو مرحلۂ رہ گزر کے بعد لیں گے سفر کا جائزہ ختم سفر کے بعد پھر بھی طلب خراج کی ویراں دیار سے پہلو میں کیا رہا تری پہلی نظر کے بعد ہر چند مل گئی ہے قفس سے ہمیں نجات جائیں کہاں شکستگیٔ بال و پر کے بعد پتھر برس رہے ہیں تو کھل کر برس پڑیں ممکن ہے اور سر نہ ملے میرے سر کے بعد باقی رہی نہ دل پہ گراں باریٔ خلش اک بوجھ ٹل گیا گلۂ مختصر کے بعد سب کچھ تو مل گیا ہے جبین نیاز کو اب اور کیا ملے گا ترے سنگ در کے بعد جھنکار بیڑیوں کی نہ وہ شورش جنوں گلیاں اداس ہیں ترے شوریدہ سر کے بعد اے عقل نارسا تجھے شاید خبر نہیں کچھ اور بھی ہے سرحد فکر و نظر کے بعد اے گردش زمانہ یہ بخشش بھی کم نہیں پوچھے گئے جو اہل ہنر بے ہنر کے بعد ہے تیرگیٔ شب ابھی مہماں تو کیا ہوا آئے گی روشنی بھی ورود سحر کے بعد غم کے سوا کسی نے رفاقت نہ کی مری سمجھی یہ بات میں نے مگر عمر بھر کے بعد قسمت میں بے زری ہے تو بہزادؔ غم نہیں اب اور کیا ہوس ہو متاع ہنر کے بعد
mohlat mile jo marhala-e-rah-guzar ke baa'd
فروغ حسن کی تابانیاں کبھی نہ گئیں نگاہ و دل کی بھی حیرانیاں کبھی نہ گئیں ہر ایک سمت سے یورش تھی حادثوں کی مگر سمند فکر کی جولانیاں کبھی نہ گئیں خزاں گزیدہ بہاروں کو دے رہی ہیں خراج مری نگاہوں کی نادانیاں کبھی نہ گئیں لب فرات ہیں پہرے یزیدیوں کے ہنوز ستم گروں کی ستم رانیاں کبھی نہ گئیں تمہاری تیغ ستم کا اتر گیا پانی لہو کے قطروں کی تابانیاں کبھی نہ گئیں تمام عمر مسلط تھا ہجرتوں کا عذاب ہماری بے سر و سامانیاں کبھی نہ گئیں جراحتوں کے خزانے گواہی دیتے ہیں متاع غم کی فراوانیاں کبھی نہ گئیں بہار صبح تو رونق دکھا گئی اپنی اداس شاموں کی ویرانیاں کبھی نہ گئیں صدائیں دے کے جگاتے رہے سحر کے نقیب مگر ہماری تن آسانیاں کبھی نہ گئیں قدم قدم پہ ہزیمت کا سامنا بہزادؔ مگر زباں کی رجز خوانیاں کبھی نہ گئیں
farogh-e-husn ki taabaaniyaan kabhi na gaiin
آج سے پہلے نہ یوں رسوا سر بازار تھا ہے یہی وہ آدمی جو صاحب کردار تھا چار سو دام ہوس تھا اور دل خوددار تھا وہ کشاکش تھی کہ جینا ہی مرا دشوار تھا خاک میں غلطاں اسی کا طرۂ دستار تھا عظمت اجداد کا جو حاشیہ بردار تھا سربلندی کا زمانے میں وہی حق دار تھا نام حق پر جس کے حصہ میں فراز دار تھا تھی خذف ریزوں کی دوکاں اور کھلا بازار تھا کوئی گاہک ہی نہیں تیرا در شہوار تھا جس جگہ دیکھا سوا نیزے پہ ہم نے آفتاب عرصۂ محشر نہ تھا وہ کوچۂ دل دار تھا جوش گریہ میں بھی رکھا تیرے دامن کا لحاظ کس قدر محتاط میرا دیدۂ خونبار تھا تم سے اہل زر کی شان کج کلاہی کیا کہیں جو بھی داخل صف میں تھا مست مئے پندار تھا زخم پا کو دیکھتے کیا اس کی فرصت ہی نہ تھی جبکہ صحرائے جنوں میں تشنہ لب ہر خار تھا ساقیٔ مہوش کی آنکھوں کا اثر تو دیکھیے جام ابھی آیا نہ تھا اور بادہ کش سرشار تھا کس طرح کرتے مداوائے غم جاناں بھی ہم دل ہی جب اپنا حریص لذت آزار تھا ڈال دی پھر بھی بنائے آشیاں بہزادؔ نے گرچہ ہر ذرہ چمن کا درپئے آزار تھا
aaj se pahle na yuun rusvaa sar-e-baazaar thaa
یوں تو ہوس بخشش و انعام بہت ہے مل جائے جو ساقی سے وہی جام بہت ہے کیا صاف نظر آئیں بدلتے ہوئے چہرے دھندھلا ابھی آئینۂ ایام بہت ہے نظروں کو تو کچھ آپ کی کہتا نہیں کوئی کیوں دل پہ مرے یورش الزام بہت ہے ہے مصلحت وقت کا شاید یہ اشارہ مجھ پر جو ابھی بارش اکرام بہت ہے دیکھا ہی نہیں ظرف کو اپنے کبھی تم نے اور دل میں ہوس بادۂ گلفام بہت ہے آئے گی شب وصل بھی اے ظلمت ہجراں مانا کہ تری زلف سیہ فام بہت ہے تاراجیٔ گلشن کی خبر مل گئی شاید مصروف فغاں صید تہہ دام بہت ہے ممکن ہے بدل جائیں کبھی وقت کے تیور مانا کہ ابھی تلخیٔ ایام بہت ہے رہنے نہیں دیتا ہے کہیں چین سے مجھ کو آزردہ جو مجھ سے دل ناکام بہت ہے شامل ہیں تری بزم میں رندان بلا نوش میرے لئے بس درد تہ جام بہت ہے پہچان گئے ہم جو زمانے کی نگاہیں تیرا یہ کرم گردش ایام بہت ہے کیوں چھیڑئیے آغاز محبت کا فسانہ دل میں خلش نشتر انجام بہت ہے ہم کو بھی بھروسہ ہے بہت اپنی خودی پر ہونٹوں سے اگر فاصلۂ جام بہت ہے زندہ رہے بہزادؔ تو پوچھا نہ کسی نے سنتے ہیں کہ مر جانے پہ کہرام بہت ہے
yuun to havas-e-bakhshish-o-in'aam bahut hai





