
Bakhtiyar Ziya
Bakhtiyar Ziya
Bakhtiyar Ziya
Ghazalغزل
چلئے کہیں صحرا ہی میں اب خاک اڑائیں بستی میں تو سب جل گئیں خوابوں کی ردائیں بے چین ہے مضطر ہے پریشان ہے یہ روح کب تک اسے احساس کی سولی پہ چڑھائیں آنکھوں میں پڑھی جاتی ہے سائل کی ضرورت چہرے سے سنی جاتی ہیں خاموش صدائیں میں وقت کی رفتار کا رخ موڑ رہا ہوں وہ لوگ جو ڈرتے ہیں مرے ساتھ نہ آئیں منہ موڑ رہے ہیں جو ضیاؔ جہد و عمل سے جا کر در تقدیر کی زنجیر ہلائیں
chaliye kahin sahraa hi mein ab khaak uDaaein
آج پھر دشت کوئی آبلہ پا مانگے ہے خار بھی تازگئ رنگ حنا مانگے ہے ضبط غم دسترس آہ رسا مانگے ہے یہ اندھیرا ترے عارض کی ضیا مانگے ہے جاں دہی تشنہ لبی آبلہ پائی بے سود دشت غربت تو کچھ اس کے بھی سوا مانگے ہے پھنک رہا ہے غم ہستی سے وجود انساں زندگی اب ترے دامن کی ہوا مانگے ہے آپ چپکے سے اسے زہر کا پیالہ دے دیں جو روایت سے بغاوت کا صلہ مانگے ہے چاند سینے سے لگائے ہے مرا نقش قدم اور سورج مری سانسوں کی صدا مانگے ہے
aaj phir dasht koi aabla-paa maange hai
نکہت و رنگ نہ موسم کی ہوا ٹھہری ہے گل کی قسمت میں بہ ہر حال فنا ٹھہری ہے زخم دل کھل اٹھے ہنستے ہوئے پھولوں کی طرح ایک لمحے کو جہاں باد صبا ٹھہری ہے موت کو کہئے علاج غم ہستی لیکن زندگی کون سے جرموں کی سزا ٹھہری ہے اور منصور کوئی مشہد ہستی میں نہ تھا لائق دار جو اک میری انا ٹھہری ہے حسن مختار ہے ہر بات روا ہے اس کو فطرت عشق تو پابند وفا ٹھہری ہے کوئی نغمہ کوئی جھنکار کوئی ہوش ربا دل ہی بہلا لیں طبیعت جو ذرا ٹھہری ہے
nikhat-o-rang na mausam ki havaa Thahri hai
ہجوم یاس میں جینا بھی اک عذاب ہوا یہی ہوا کہ محبت میں دل خراب ہوا چھپا ہوا ہے جو چہرہ حیا کے دامن میں نہ کوئی آئینہ اس حسن کا جواب ہوا بہم الجھتے رہے شیخ و برہمن اب تک جو ہم اٹھے تو زمانے میں انقلاب ہوا تمہارے حکم پہ ہستی مٹا چکے ہم تو مگر ہماری وفاؤں کا کیا جواب ہوا مری نوا سے لرزنے لگا نظام کہن مرا پیام ضیاؔ وجہ انقلاب ہوا
hujum-e-yaas mein jiinaa bhi ik 'azaab huaa
نہ پوچھو وجہ میری چشم تر کی میاں پھر گر گئی دیوار گھر کی یہ مانا دھل گیا سورج سروں سے مرے آنگن کی دھوپ اب تک نہ سر کی جبیں تر خشک لب تلووں میں چھالے یہی روداد ہے اپنے سفر کی بدی نیکی اضافی مسئلے ہیں حکومت ہے دلوں پر صرف ڈر کی گمانوں کا مقدر ہے بھٹکتا یقیں نے ہر مہم دنیا کی سر کی نہ سایا ہے نہ شاخوں میں ثمر ہیں ضرورت کیا ہے اب سوکھے شجر کی جھلستی دھوپ بارش سرد راتیں بہ ہر صورت ضیاؔ ہم نے بسر کی
na puchho vajh meri chashm-e-tar ki
آج مائل بہ کرم اک بت رعنائی ہے ساری دنیا مرے دامن میں سمٹ آئی ہے حسن مصروف تجلی و خود آرائی ہے وہ تماشہ ہی نہیں خود بھی تماشائی ہے آپ سے پہلے کہاں غم سے شناسائی تھی مل گئے آپ تو ہر غم سے شناسائی ہے اس طرح دیکھنا جیسے مجھے دیکھا ہی نہیں یہ ادا آپ کی خود مظہر یکتائی ہے چند کلیاں ہی نہیں سارا چمن اپنا ہے کون ٹوکے گا ہمیں کس کی قضا آئی ہے جس میں دہکے ہوئے شعلے کی سی تاثیر نہ ہو وہ ضیاؔ شعر نہیں قافیہ پیمائی ہے
aaj maail-ba-karam ik but-e-raanaai hai





