
Balbir Rathi
Balbir Rathi
Balbir Rathi
Ghazalغزل
حسرتیں خاموش ہیں اجڑے مزاروں کی طرح ولولے روشن ہیں کیوں پھر بھی شراروں کی طرح کچھ نہ کچھ تو ہے دل وحشی تری آواز میں ورنہ وہ کب دیکھتے تھے بے قراروں کی طرح کہکشاؤں پر بہکتے جا رہے ہیں آج ہم مستیاں بکھری ہیں راہوں میں ستاروں کی طرح یہ کسی کی زلف بکھری ہے کہ بادل چھائے ہیں برق لہراتی ہے آنچل کے کناروں کی طرح رفتہ رفتہ اک قیامت بن گیا ان کا شباب وہ نکھرتے ہی گئے رنگیں نظاروں کی طرح جام غم پیتے بہکتے لڑکھڑاتے جھومتے زندگی کا لطف لیں گے بادہ خواروں کی طرح
hasratein khaamosh hain ujDe mazaaron ki tarah
1 views
ابھی تک تلخیٔ مے میں کمی معلوم ہوتی ہے لبوں پر اک بلا کی تشنگی معلوم ہوتی ہے تصور میں تمہاری مسکراہٹ رچ گئی شاید مجھے ہر شے مسرت سے بھری معلوم ہوتی ہے سنا ہے زندگی میں کشمکش سے لوگ ڈرتے ہیں مجھے تو کشمکش ہی زندگی معلوم ہوتی ہے مری معصومیت تو دیکھ لو فرط محبت میں تمہاری بے رخی بھی دل لگی معلوم ہوتی ہے خلوص دل سے کیا جذبہ نمایاں کر دیا تم نے کہ ہر صورت مجھے کچھ اجنبی معلوم ہوتی ہے کسی کی دوستی میں دشمنی کی بو تو کیا آئے مجھے تو دشمنی بھی دوستی معلوم ہوتی ہے
abhi tak talkhi-e-mai mein kami maa'lum hoti hai
عطا کر دی کسی نے وہ بلا کی تشنگی مجھ کو نہ راس آئے گی شاید زندگی بھر زندگی مجھ کو مری یہ بے بسی تو خیر کچھ ایسی نہیں ہمدم مگر جینے نہیں دے گی تری بے چارگی مجھ کو بھلا میں رتبۂ دیوانگی کا مستحق کب تھا کسی کے پیار نے دے دی یوںہی دیوانگی مجھ کو کوئی منزل بھی ہو وہ میری منزل ہو نہیں سکتی ازل سے ہی ملی ہے بے سبب آوارگی مجھ کو مجھے تو زندگی میں بارہا محسوس ہوتا ہے مرے معصوم خوابوں نے ہی دی ہے نغمگی مجھ کو
'ataa kar di kisi ne vo balaa ki tishnagi mujh ko
کسی بھی خواب میں جب دل کشی باقی نہیں رہتی تو پھر جذبات میں وہ بات ہی باقی نہیں رہتی گزر تو ہو ہی جاتی ہے سنبھل کر چلنے والوں کی مگر پھر زندگی میں زندگی باقی نہیں رہتی تمہیں اچھی نہیں لگتیں مری بے باکیاں لیکن تکلف میں بھی اکثر دوستی باقی نہیں رہتی جوانی میں بھلا کیسے کریں ہم ہوش کی باتیں کہ ایسی بے خودی میں آگہی باقی نہیں رہتی ہٹاؤ ساغر و مینا نہیں مے کی طلب مجھ کو حسیں آنکھوں سے پی کر تشنگی باقی نہیں رہتی
kisi bhi khvaab mein jab dilkashi baaqi nahin rahti
ہمیں ساتھ مل تو گیا تھا کسی کا مگر مختصر تھا سفر زندگی کا کہاں آ گئے ہم بھٹکتے بھٹکتے یہاں تو نشاں تک نہیں روشنی کا تمدن کی یہ کونسی منزلیں ہیں کہ دشمن ہوا آدمی آدمی کا وفا ایک مدت ہوئی مٹ چکی ہے کہاں نام لیتے ہو اب دوستی کا اگر ساتھ ہوتے وہ ان راستوں پر تو کیا حال ہوتا مری آگہی کا مرے حال پر مسکرا کر گئے ہیں چلو حق ادا ہو گیا دوستی کا
hamein saath mil to gayaa thaa kisi kaa
رات کیا ڈھل گئی سمندر میں گھل گئی تیرگی سمندر میں ایک سرخی پہاڑ سے ابھری پھر اترتی گئی سمندر میں اک سفینہ کہیں پہ ڈوبا تھا کتنی ہلچل ہوئی سمندر میں خود سمندر کی نیند ٹوٹ گئی رات کچھ یوں ڈھلی سمندر میں غرق ہوتا گیا کوئی صحرا دھول اڑتی گئی سمندر میں کوئی طوفاں ضرور اٹھنا تھا اپنی کشتی جو تھی سمندر میں
raat kyaa Dhal gai samundar mein





