SHAWORDS
Baldev Singh Hamdam

Baldev Singh Hamdam

Baldev singh Hamdam

Baldev singh Hamdam

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

رائیگاں جاتا ہے کب الفت میں دیوانوں کا خوں رنگ لاتا ہے کسی دن ان کے ارمانوں کا خوں حسن گل پر اس قدر مائل نہ ہو اے عندلیب ہو کے رہ جائے گا اک دن تیرے ارمانوں کا خوں خاک بلبل نے سنوارا غازہ بھی کر حسن گل اور نور شمع میں چمکا ہے پروانوں کا خوں آشیانے میں قفس کا ذکر تھا سوہان روح اب قفس میں ہو رہا ہے دل کے ارمانوں کا خوں صبح تک اے شمع تجھ کو جگمگانا ہے فقط کس لئے ناحق کئے جاتے ہیں پروانوں کا خوں

raaegaan jaataa hai kab ulfat mein divaanon kaa khuun

2 views

غزل · Ghazal

جو بات رہے دل میں وہی بات بڑی ہے الفت کا تقاضا بھی یہی کم سخنی ہے ساقی تری آنکھوں میں ہیں دو جام چھلکتے مے خانے کی مستی تری آنکھوں میں بھری ہے فن کار نے جب اپنا قلم غم میں ڈبویا تب جا کے ترے حسن کی تصویر بنی ہے جب چاہا تجھے دیکھ لیا جان تمنا غم خانۂ دل میں تری تصویر جڑی ہے کیوں صبح نہیں ہوتی مری شام الم کی کیوں زیست مری موت کے سانچے میں ڈھلی ہے جس وقت نظر آیا تری زلف کا سایہ اس وقت کہا دل نے یہاں چھاؤں گھنی ہے توہین نہ کر اس کی اسے کہہ لے مئے ناب ناصح مرے ساغر میں تو شیشے کی پری ہے یہ وقت جوانی ہے گنوا اس کو نہ ہمدمؔ نادان عبارت کے لئے عمر پڑی ہے

jo baat rahe dil mein vahi baat baDi hai

2 views

غزل · Ghazal

روشنی ہو نہ سکی شام کے ہنگام کے ساتھ اور ہم دیپ جلاتے رہے ہر شام کے ساتھ دور بڑھتا ہی گیا حسرت ناکام کے ساتھ دل میں اک ٹیس اٹھی آپ کے ہنگام کے ساتھ آپ نے پرسش غم کا بھی تکلف نہ کیا دل میں ہم جلتے رہے حسرت ناکام کے ساتھ جانے کیوں آج مرے عشق کی تشہیر ہوئی ہر زباں پر ہے مرا نام تیرے نام کے ساتھ دور مے ختم ہوا شمع کا دل بیٹھ گیا رونق بزم گئی ساقیٔ گلفام کے ساتھ وقت کی بات ہے کیا وقت گزر جائے گا اور کچھ دیر چلو گردش ایام کے ساتھ منزل عشق میں کیا کام تھا ان کا ہمدمؔ تھک کے جو بیٹھ گئے راہ میں آرام کے ساتھ

raushni ho na saki shaam ke hangaam ke saath

1 views

غزل · Ghazal

ہم بھی سنتے جو ترے حسن کے چرچے ہوتے کاش اس وقت تری بزم میں بیٹھے ہوتے دل کے وہ داغ جو سینے میں چھپا رکھے ہیں اے مسیحا وہ کبھی تو نے بھی دیکھے ہوتے ہم سمجھ ہی نہ سکے تیری نظر کا مفہوم ورنہ یوں بت سے بنے راہ میں بیٹھے ہوتے غم دوراں کی کڑی دھوپ یہ تپتا صحرا کاش دو گام تری زلف کے سائے ہوتے ہم جلا لیتے اگر تیری محبت کے چراغ ان اندھیروں کی جگہ دل میں اجالے ہوتے دل میں ہوتا نہ کبھی ذوق تجسس کا ہجوم تجھ سے دنیا میں اگر اور بھی چہرے ہوتے

ham bhi sunte jo tire husn ke charche hote

1 views

غزل · Ghazal

تمنا ہے تمنا میں تری جی سے گزر جائیں یہی ہے آرزو اپنی اسی خواہش میں مر جائیں گناہوں میں سما جائیں کلیجے میں اتر جائیں مری دنیائے ہستی میں ترے جلوے بکھر جائیں نہ دنیا میں ٹھکانہ ہے نہ عقبیٰ میں ٹھکانہ ہے ترے بندے اگر جانا بھی چاہیں تو کدھر جائیں ترے رندوں میں اے ساقی بھلا اتنی کہاں طاقت بچا کر اپنا دامن میکدے سے وہ گزر جائیں لٹا کر دین و دنیا انجمن میں تیری آئے تھے یہاں سے اٹھ کر اب ہم ٹھوکریں کھانے کہاں جائیں ہمارے دور ماضی کی نہ ہم سے پوچھ اے ہمدمؔ وہی اچھے ہیں لمحے زندگی کے جو گزر جائیں

tamannaa hai tamannaa mein tiri ji se guzar jaaein

غزل · Ghazal

اگر ہیں خار الم آدمی کے دامن میں خوشی کے پھول بھی تو ہیں اسی کے دامن میں ہزار عیش سہی زندگی کے دامن میں مگر ہے صبر کہاں آدمی کے دامن میں اگر سکوں ہے تو ہے بندگی کے دامن میں ملے گی منزل عرفاں اسی کے دامن میں کسی کی یاد میں آنسو جو آنکھ سے ٹپکے جواہرات ہیں یہ عاشقی کے دامن میں کمال ضبط یہی ہے وقار عشق یہی چھپی ہو آرزوئے دل خودی کے دامن میں حدیث عشق و محبت کا ترجماں جو ہو ادب کے پھول کھلے ہیں اسی کے دامن میں بہ چشم غور جو دیکھو تو اور بھی کچھ ہے فقط گناہ نہیں آدمی کے دامن میں اجل ہزار بری چیز ہے مگر ہمدم پناہ ملتی ہے آخر اسی کے دامن میں

agar hain khaar-e-alam aadmi ke daaman mein

Similar Poets