
Balraj Bakhshi
Balraj Bakhshi
Balraj Bakhshi
Ghazalغزل
daraaz hotaa nahin hai dast-e-savaal meraa
دراز ہوتا نہیں ہے دست سوال میرا نہ جانے کیسے وہ جان پائے گا حال میرا رفاقتوں میں تو فاصلے بھی ہیں قربتیں بھی پتہ نہیں یہ کہ ہجر ہے یا وصال میرا بچا بچا کر میں لمحے لمحے کو جوڑتا ہوں اور آتے ہی خرچ ہونے لگتا ہے سال میرا میں جس کے ماضی کی گمشدہ داستاں ہوں کوئی قریب اسی کے نہ آئے جائے خیال میرا وہ جس نے دشمن سمجھ کے دل میں بسا لیا ہے کبھی تو بلراجؔ مان لے گا کمال میرا
yaqin hi ab yaqinon mein nahin hai
یقیں ہی اب یقینوں میں نہیں ہے کوئی سجدہ جبینوں میں نہیں ہے جو لمحہ فیصلے کا ڈھونڈھتا ہوں دنوں ہفتوں مہینوں میں نہیں ہے جنوں میں پاؤں ہی آئیں تو آئیں تحرک کوئی زینوں میں نہیں ہے نظر ہے ہوش ہے دل بھی ہے لیکن کوئی بھی ربط تینوں میں نہیں ہے جسے افسوس بھی ہو اور خوشی بھی وہی گھر کے مکینوں میں نہیں ہے ہمارے لمس کی کاریگری تھی نزاکت آبگینوں میں نہیں ہے حیا پرور ادائیں قاتلانہ وفا لیکن حسینوں میں نہیں ہے اگر بلراجؔ خوشبو بن کے جائیں کوئی سرحد زمینوں میں نہیں ہے
na dasht hi ke liye huun na gulsitaan ke liye
نہ دشت ہی کے لیے ہوں نہ گلستاں کے لیے کوئی بتائے کہ آخر ہوں میں کہاں کے لیے وہ ایک ابر کا ٹکڑا میں ایک بوند آنسو کہاں کہاں کے لیے وہ میں ہوں کہاں کے لیے یہ کم نہیں ہے کہ جب بھی تمہاری بات چلی مرا ہی ذکر ہوا زیب داستاں کے لیے وہ میرے شوق کے آگے جو خم پذیر ہوا پھر اس نے کچھ بھی نہ رکھا مرے گماں کے لیے ترا سبق نہ کسی کام آ سکا بلراجؔ سوال اور ضروری تھے امتحاں کے لیے
kahaan kahaan na gayaa an-suni du'aa ki tarah
کہاں کہاں نہ گیا ان سنی دعا کی طرح پھر اپنے در پہ چلا آیا التجا کی طرح کسی نے مفت نہ بازار میں لیا مجھ کو میں ختم ہو بھی گیا موسم وفا کی طرح جب اپنے قتل کا مجرم قرار پایا گیا مجھے وصول کیا سب نے خوں بہا کی طرح سنا کسی نے تو بچ جائے گا وجود مرا بکھر رہا ہوں میں صحراؤں میں صدا کی طرح نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرانے لگتا ہوں خیال ان کا گزرتا ہے جب صبا کی طرح پتہ نہیں تھا یہ دن دیکھنا پڑے گا مجھے کہ پیش آئے گا میرا خدا خدا کی طرح ذرا سی دیر میں سب ڈھونڈنے لگے ہیں مجھے جو پس رہا ہوں میں بلراجؔ اب حنا کی طرح
kabhi hansaate rahe aur kabhi rulaate rahe
کبھی ہنساتے رہے اور کبھی رلاتے رہے ہمارے دوست ہمیں یوں بھی آزماتے رہے میں جھیلتا ہی رہا جن کو درد کی صورت وہ ایک فرض سمجھ کر مجھے نبھاتے رہے جو لوٹ آئے نہ دیکھا انہوں نے مڑ کر بھی جو ڈوبے ہاتھ وہی دیر تک ہلاتے رہے انہیں کبھی نہ ہوا فاصلوں کا اندازہ ہر ایک سمت مخالف سے وہ بلاتے رہے تمام عمر یہی مسئلہ رہا درپیش وہ یاد آتے رہے اور ہم بھلاتے رہے کہاں کی قید کہاں کی ہوئی نظر بندی ہزار وسوسے ہر وقت آتے جاتے رہے اسی لیے تو اندھیرے خفا رہے ہم سے کہ روشنی کے لیے دل بھی ہم جلاتے رہے بدل کے شکل ہر اک لمحہ ہر گھڑی بلراجؔ ہمارے سائے ہمیں ہی عبث ڈراتے رہے
na jaane kaun thaa aur kyaa vo karne vaalaa thaa
نہ جانے کون تھا اور کیا وہ کرنے والا تھا مرے قریب سے چھپ کر گزرنے والا تھا کسی نے کھینچ لی سیڑھی تو گر کے ٹوٹ گیا میں سخت جان کہاں ایسے مرنے والا تھا تمام شہر میں اعلان کر دیا تم نے میں قرض لے کے بھلا کب مکرنے والا تھا نہ جانے کیسے وہی شخص ڈر گیا مجھ سے کہ جس کو دیکھ کے میں خود ہی ڈرنے والا تھا مری نظر ہی نہ بلراجؔ لگ گئی ہو اسے وہ چاند جو مری چھت پر اترنے والا تھا





