SHAWORDS
Balwan Singh Azar

Balwan Singh Azar

Balwan Singh Azar

Balwan Singh Azar

poet
24Ghazal

Ghazalغزل

See all 24
غزل · Ghazal

dar-o-divaar par sabza nahin hai

در و دیوار پر سبزہ نہیں ہے وگرنہ اور گھر میں کیا نہیں ہے وفا والے کہاں غوطہ لگائیں تعلق کوئی بھی گہرا نہیں ہے وہ جس موسم میں ہوتا تھا نمو میں کسی بھی سمت سے لوٹا نہیں ہے عجب گم گشتگی میں جی رہا ہوں بدن تو ہے مگر چہرہ نہیں ہے بہت ہی کام کی ہے رائیگانی کسی نے ٹھیک سے برتا نہیں ہے

غزل · Ghazal

ai havaa ye charaagh kis ke hain

اے ہوا یہ چراغ کس کے ہیں اتنے روشن دماغ کس کے ہیں مست کن خوشبوئیں مہکتی ہیں دل میں سرسبز باغ کس کے ہیں پی رہا ہوں بہت شراب حسن یہ لبالب ایاغ کس کے ہیں کون تابندہ ہے یقیں میں مرے بد گمانی کے داغ کس کے ہیں میں نہیں ہوں کہیں اگر آزرؔ چاک پر یہ سراغ کس کے ہیں

غزل · Ghazal

apni mehnat se bahut log kamaae hue hain

اپنی محنت سے بہت لوگ کمائے ہوئے ہیں زندگی ہم ترے مزدور ہیں چھائے ہوئے ہیں تیری جانب بھی ہمیں فاصلے طے کرنے پڑے اپنی جانب بھی کہیں دور سے آئے ہوئے ہیں شہر مانگے گا تو تعبیر بھی لا دیں گے ہم یہ نئے خواب ہمارے ہی دکھائے ہوئے ہیں کیسی رت تھی کہ وہ تب بھول گئے تھے سب کچھ کیسی رت ہے کہ ہمیں دھیان میں لائے ہوئے ہیں اک ذرا سا تو سفر ہے مگر ان لوگوں نے کیسے کیسے سر و سامان اٹھائے ہوئے ہیں

غزل · Ghazal

apni achchhi buri auqaat jie jaataa huun

اپنی اچھی بری اوقات جئے جاتا ہوں خود کو جینا ہے سو حضرات جئے جاتا ہوں دن نکلتا ہے تو دن کی ہی طلب رہتی ہے رات ہوتی ہے تو پھر رات جئے جاتا ہوں بیچ کا کچھ بھی مجھے یاد نہیں رہتا ہے آخری پہلی ملاقات جئے جاتا ہوں وہ بدن یوں بھی طلب گار نہیں ہے میرا وصل میں ہجر کے لمحات جئے جاتا ہوں مجھ کو ہر چیز میں امکان نظر آتے ہیں روشنی جب بھی ترے ساتھ جئے جاتا ہوں

غزل · Ghazal

kisi din dusraa honaa paDegaa

کسی دن دوسرا ہونا پڑے گا مجھے اپنے سوا ہونا پڑے گا بہت دن سے یہاں میں اجنبی ہوں کسی سے آشنا ہونا پڑے گا تقاضا ہے بدلنے کا مجھے بھی پرانے کو نیا ہونا پڑے گا توازن ٹھیک ہو جائے گا آزرؔ بھلا تو ہوں برا ہونا پڑے گا

غزل · Ghazal

'ajib mauj-e-junun par savaar ho gayaa thaa

عجیب موج جنوں پر سوار ہو گیا تھا پھر اس کے بعد میں بے اختیار ہو گیا تھا مرے وجود میں پھر اشتہار لگنے لگے کہ دفعتاً کوئی مجھ میں فرار ہو گیا تھا اس ایک حسن کی آمد ہوئی تھی آنکھوں میں مرا دھڑکتا ہوا دل غبار ہو گیا تھا نشانہ مجھ پہ لگا ہے فقط مرے دل کا جہاں کے تیر سے تو ہوشیار ہو گیا تھا لگا تھا پہلی نظر میں سبھی کو میں مبہم دوبارہ دیکھنے پر آشکار ہو گیا تھا

Similar Poets