Barq Kadapavi
Barq Kadapavi
Barq Kadapavi
Ghazalغزل
ہمارے دل کو نہ چھیڑو کہ یہ وہ صحرا ہے بہار ہے نہ جہاں کوئی پھول کھلتا ہے وہ شخص جس کا ادھر سے کبھی گزر نہ ہوا گلی کے موڑ پہ کیوں جانے آج بیٹھا ہے خموش جھیل کا پانی سہی مگر اس میں جو پھینکیے کوئی پتھر تو چیخ اٹھتا ہے ہماری صبح جنم سورجوں کو دیتی ہے ہماری رات کے دامن سے چاند اگتا ہے جو دیکھیے تو ہے اک بھیڑ اپنے ساتھ لیے جو سوچئے تو ہر اک شخص برقؔ تنہا ہے
hamaare dil ko na chheDo ki ye vo sahraa hai
پھول کی طرح مہکتے رہیے خار کی طرح کھٹکتے رہیے ہو چکا ختم سفر پانی کا اب خلاؤں میں بھٹکتے رہیے جان جب تک ہے بدن میں باقی غم کی سولی پہ لٹکتے رہیے تیز آندھی ہے تو شاخوں کی طرح تیز آندھی میں لچکتے رہیے رنگ بھرنا ہے اگر پھولوں میں خون پھولوں پہ چھڑکتے رہیے یاد کر کے اسے تنہائی میں رات بھر برقؔ سسکتے رہیے
phuul ki tarh mahakte rahiye





