Basheer Ahmad Shad
Basheer Ahmad Shad
Basheer Ahmad Shad
Ghazalغزل
اک شہر آرزو ہے اور ہم ہیں دوستو پھر غم کی جستجو ہے اور ہم ہیں دوستو مجرم کھڑے ہوئے ہیں اک بارگاہ میں وہ شخص روبرو ہے اور ہم ہیں دوستو کانٹوں سے روشناس ہیں پھولوں سے بہرہ ور دنیائے رنگ و بو ہے اور ہم ہیں دوستو ہم جس میں جی رہے ہیں اس میکدے کی خیر ٹوٹے ہوئے سبو ہیں اور ہم ہیں دوستو دنیا سے بے خبر ہیں کس انجمن میں گم کیمپس ہے آب جو ہے اور ہم ہیں دوستو
ik shahr-e-aarzu hai aur ham hain dosto
میں چلا جاؤں گا میری دل لگی رہ جائے گی پیار سے خالی تمہاری زندگی رہ جائے گی چاند گہنا جائیں گے جب وقت کے آکاش پر آنگنوں میں بین کرتی چاندنی رہ جائے گی تیرگی میں چھوڑ جائیں گے سبھی تجھ کو مگر میری یادوں کی فقط اک روشنی رہ جائے گی لوٹنے والو وفا کے نام پر اے دوستو اس جہاں میں ہاتھ ملتی دوستی رہ جائے گی کیا بنے گا اس جہاں میں اشرف المخلوق کا ہر طرف جب دشمنی ہی دشمنی رہ جائے گی وہ بھی دن آئیں گے اس دھرتی پہ لوگو دیکھنا چار سو جب آشتی ہی آشتی رہ جائے گی
main chalaa jaaungaa meri dil-lagi rah jaaegi
سفر کٹھن ہے میں راہوں سے آشنا بھی نہیں تری وفا کے سوا کوئی آسرا بھی نہیں خدا سے مانگنے بیٹھا ہوں اس پری وش کو مرے نصیب کی تختی پہ جو لکھا بھی نہیں میں جانتا ہوں اسے جانے کتنی مدت سے یہ اور بات کہ اس شخص سے ملا بھی نہیں اٹھا کے ہاتھ محبت کی بارگاہوں میں میں سوچتا ہوں کہ اب کوئی مدعا بھی نہیں قدم قدم تری راہوں پہ جگنوؤں کے چراغ روش روش مری قسمت میں اک دیا بھی نہیں ہزار خواب سجائے تھے اپنی راتوں میں کھلی جو آنکھ تو منظر کوئی رہا بھی نہیں
safar kaThin hai main raahon se aashnaa bhi nahin
راتوں کی گود میں تھے عذابوں کے سلسلے آنکھوں میں پھیلتے گئے خوابوں کے سلسلے پیکار تھم گئی تو کھلا راز دوستو میلوں تلک تھے شہر خرابوں کے سلسلے اب دل کی وسعتوں میں ذرا آ کے دیکھیے یادوں کی سر زمیں پہ گلابوں کے سلسلے صحرا ہو ریگ زار ہو یا شہر آرزو ملتے ہیں دور دور سرابوں کے سلسلے رنگین آنچلوں میں وہ لپٹے ہوئے جمال آنکھوں میں جھانکتے ہیں نقابوں کے سلسلے
raaton ki god mein the azaabon ke silsile
خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے میری رسوائی کے کیا کیا نہ بہانے مانگے میں اسے روز نئے زخم دکھاؤں پھر بھی دل بے مہر وہی درد پرانے مانگے ایک آوارۂ منزل سے محبت کر کے تو بڑے شہر میں رہنے کو ٹھکانے مانگے یاد ماضی کے سوا پاس مرے کچھ بھی نہیں تو میری جان وہ پہلے سے زمانے مانگے رات بھر جاگتے رہنا تو نصیب اپنا تھا سونے والا تو کوئی خواب سہانے مانگے دل ناداں سے قناعت کی توقع ہے کسے پا لیا ان کو تو کیا اور نہ جانے مانگے
khilqat-e-shahr to kahne ko fasaane maange
ان علم و آگہی کی کتابوں میں کچھ نہیں کیا ڈھونڈھتا ہے یار نصابوں میں کچھ نہیں خوشبو کو ڈھونڈنے کی تمنا ہے کس لیے کچھ اور دیکھ سوکھے گلابوں میں کچھ نہیں جب اپنے پاس پیار کی صورت نہیں رہی چھوڑو خیال دوست کہ خوابوں میں کچھ نہیں وہ شہر مٹ چکا جو بسایا تھا پیار کا کیا ڈھونڈتے ہو یار خرابوں میں کچھ نہیں ہو آنکھ میں سرور تو کیا میکدے سے کام ساغر میں کچھ نہیں ہے شرابوں میں کچھ نہیں
in ilm-o-aagahi ki kitaabon mein kuchh nahin





