SHAWORDS
B

Basheer Ahmed Shaheed

Basheer Ahmed Shaheed

Basheer Ahmed Shaheed

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

دل کے ہر داغ کو سینے سے لگائے رکھئے خانۂ دل میں یہ فانوس جلائے رکھئے زندگی وقت کے سانچے میں ڈھلی جاتی ہے دیدہ و دل کو قرینے سے سجائے رکھئے شام غم کا جو فسانہ تھا وہ اب ختم ہوا صبح امید کا ماحول بنائے رکھئے اپنے اخلاص و محبت کے ہیں قائل سب لوگ زندگانی کا یہی رنگ جمائے رکھئے میں ابھی چپکے سے پی آتا ہوں میخانے سے زاہدوں کو ذرا باتوں میں لگائے رکھئے رازداں اپنا فرشتہ نہیں انساں ہی تو ہے دل کے ہر راز کو دل میں ہی چھپائے رکھئے یہ جو ہے فرصت امروز غنیمت ہے شہیدؔ آج کے کام کو کل پر نہ اٹھائے رکھئے

dil ke har daagh ko siine se lagaae rakhiye

غزل · Ghazal

بہاروں میں بھی جلتے آشیاں دیکھے نہیں جاتے دہکتے گل سلگتے گلستاں دیکھے نہیں جاتے نکل کر بزم گل سے نکہتیں آوارہ پھرتی ہیں فضاؤں میں بھٹکتے کارواں دیکھے نہیں جاتے یہاں انسان سے انساں تو ہیں سہمے ہوئے لیکن خدا سے بھی یہ بندے بد گماں دیکھے نہیں جاتے نمازیں چیختی ہیں مسجدیں فریاد کرتی ہیں عقیدت کو ترستے آستاں دیکھے نہیں جاتے یقین‌ دوستی ہو تو صداقت دیکھ سکتے ہیں مگر وہموں کے پردے درمیاں دیکھے نہیں جاتے بڑی دلچسپ سرگرمی ہے بازار سیاست کی مگر بکتے ہوئے ایماں یہاں دیکھے نہیں جاتے شہیدؔ اہل خرد کی دوراندیشی بجا لیکن امید و بیم کے سود و زیاں دیکھے نہیں جاتے

bahaaron mein bhi jalte aashiyaan dekhe nahin jaate

غزل · Ghazal

ساقی سے نہیں بڑھ کے کوئی نبض شناس اور برسات میں دے دیتا ہے دو چار گلاس اور دل میں ہو اگر سوز تمنا کی حرارت ارمان کی تائید میں بڑھ جاتی ہے آس اور جب اونگھنے لگتی ہے ارادوں کی جوانی ہستی کے سمن زار بھی ہوتے ہیں اداس اور ہے روپ کہ بہروپ ہے انسان کا یہ بھی ہندو کا لباس اور ہے مسلم کا لباس اور نیرنگیٔ ہستی ہے کہ یہ گلشن ہستی ہر پھول کا رنگ اور ہے ہر پھول کی باس اور کیا مانگیے ایام سے امید ہی کیا ہے گردش کے سوا کچھ نہیں ایام کے پاس اور انکار ہی بہتر ہے شہیدؔ ایسے کرم سے دو گھونٹ سے کیا ہوتا ہے بڑھ جاتی ہے پیاس اور

saaqi se nahin baDh ke koi nabz shanaas aur

غزل · Ghazal

نکھرے ہوئے عارض ہیں بکھرے ہوئے گیسو بھی اے اہل نظر دیکھو جلوہ بھی ہے جادو بھی موسم کی طرح ان کے تیور بھی بدلتے ہیں پھر جاتی ہیں نظریں بھی تن جاتے ہیں ابرو بھی اظہار تمنا پر ہنس ہنس کے نہیں کہنا انکار میں شامل ہے اقرار کا پہلو بھی اے عشق بتا تو ہی یہ کون سا عالم ہے ہونٹوں پہ تبسم ہے آنکھوں میں ہیں آنسو بھی گلشن میں بھی دیوانو صحرا کے مزے لوٹو گردش میں ہے بزم گل آوارہ ہے خوشبو بھی سچ ہے کہ مرا دامن آلودہ ہے اے واعظ یہ جھوٹ نہیں لیکن بے داغ نہیں تو بھی ارباب سیاست سے کہنا ہے شہیدؔ اتنا ارباب محبت کا شہکار ہے اردو بھی

nikhre hue aariz hain bikhre hue gesu bhi

Similar Poets