Bashir Zaidi Aseer
یوں کھل گیا ہے راز شکست طلب کبھی آنکھوں سے بہہ گیا ہے لہو بے سبب کبھی ویرانیوں نے تھام لیا دامن حیات ہم لوگ بھی تھے خندۂ بزم طرب کبھی جو لوگ آج زینت خواب و خیال ہیں رہتے تھے ساتھ ساتھ مرے روز و شب کبھی آوارہ آج صورت برگ خزاں ملے ملتی تھی جن سے باد صبا با ادب کبھی ایک ایک سمت جن کو بگولے اڑا گئے یکجا نہ ہو سکیں گے وہ اوراق اب کبھی ترک تعلقات ہے پھر بھی ٹھٹک گئے گزرے ہیں میرے پاس سے ہو کر وہ جب کبھی مہلت کچھ اور کشمکش انتظار دے آ جائے کچھ خیال اسے کیا عجب کبھی
yuun khul gayaa hai raaz-e-shikast-e-talab kabhi