
Basit Ujjaini
Basit Ujjaini
Basit Ujjaini
Ghazalغزل
قابو نہیں حواس پہ بس میں نظر نہیں وہ آئے اور گئے مجھے یہ بھی خبر نہیں ان کی نوازشیں جو مرے حال پر نہیں بے تاب و بے قرار ہوں اپنی خبر نہیں کار جہان عشق میں ناکامیاں کہاں تکمیل آرزو تو تری رہ گزر نہیں طوفان غم سے کھیل زمانے کے ساتھ ساتھ منزل کی جستجو کوئی دشوار تر نہیں دنیائے آرزو کی ہر اک شے فریب ہے یہ بھی فریب ہے کہ قریب نظر نہیں عیش و خوشی کے دور گذشتہ کو بھول جا کیا نظم زندگی ترے پیش نظر نہیں اس بے سبب خلوص کا احساس ہے مگر مجھ کو تو اب یقین کسی بات پر نہیں ان کی عنایتوں پہ مدار حیات ہے ان کے بغیر رونق شام و سحر نہیں منزل کی جستجو میں تلون فضول ہے باسطؔ تلاش راہ کوئی مختصر نہیں
qaabu nahin havaas pe bas mein nazar nahin
احساس غم عشق کا حاصل نہیں ہوتا وہ درد کے جو روح میں شامل نہیں ہوتا اے ذوق نظر بھول بھی جا ذوق نظر کو افسانہ کبھی زیست کا حاصل نہیں ہوتا اے دوست وفا ساز محبت کی نظر میں بگڑی کو بنا لینا تو مشکل نہیں ہوتا منزل تو بڑی چیز ہے راہیں نہیں ملتیں جب شوق طلب رہبر منزل نہیں ہوتا اکثر مری آنکھوں نے بھی اظہار کیا ہے لیکن انہیں احساس غم دل نہیں ہوتا طوفان کی آغوش میں گھر ڈھونڈنے والا ممنون تنک ظرفیٔ ساحل نہیں ہوتا باسطؔ وہ دیا کرتے ہیں تسکین تو لیکن اک لفظ بھی تسکین کے قابل نہیں ہوتا
ehsaas-e-gham-e-ishq kaa haasil nahin hotaa
تجھے جاوداں بنا دے وہ ارم قبول کر لے مرا مشورہ ہے تجھ کو کوئی غم قبول کر لے بہ کمال عزم راسخ تو ستم قبول کر لے کبھی دار تک گئے تھے وہ قدم قبول کر لے کئی اور تشنہ لب ہیں تری انجمن میں ساقی میں وہ بوالہوس نہیں ہوں جو کرم قبول کر لے رہ و رسم عاشقی میں جو وفا کے نام پر ہوں دل بے قرار ہنس کر وہ ستم قبول کر لے وہ ہو کعبہ یا کہ مندر تو غرض نہ رکھ کسی سے تجھے آدمی بنا دے وہ حرم قبول کر لے یہ سجود عارفانہ بڑے کام کے ہیں لیکن وہی سجدہ بے خطا ہے جو صنم قبول کر لے وہ کبھی شرارتاً بھی جو عطا کریں تو باسطؔ بہ کمال دلبرانہ تو ستم قبول کر لے
tujhe jaavedaan banaa de vo iram qubul kar le
جو انیس دل نہیں ہے جو امین غم نہیں ہے کوئی اور شے ہے شاید وہ ترا کرم نہیں ہے مجھے کوئی غم نہیں تھا مجھے کوئی غم نہیں ہے مرے حال پر کسی کا یہ کرم بھی کم نہیں ہے مئے زندگی بھی ہوتی مے انگبیں سے ساقی ترے میکدے میں شاید کوئی جام جم نہیں ہے رہ و رسم عاشقی میں جو کیا ہے تو نے اب تک وہ سلوک مجرمانہ ابھی مختتم نہیں ہے کسی بے رخی پہ ان کی نہ چراؤ ان سے نظریں کہ مذاق دلبری ہے یہ کوئی ستم نہیں ہے تری مصلحت پہ ہمدم مجھے شک نہیں ہے لیکن یہ فریب مخلصانہ تو جواب غم نہیں ہے وہ شعور غم عطا ہے مجھے فطرتاً ازل سے کہ شکست دل پہ باسطؔ مری آنکھ نم نہیں ہے
jo anis-e-dil nahin hai jo amin-e-gham nahin hai
کبھی مرحلات حیات میں کوئی ہم نوا ہی نہیں ملا اب اس اتفاق کو کیا کہوں مجھے آسرا نہیں ملا جو ترے قدم کا جواب ہو جو ترے جمال کا عکس ہو مجھے ایسا منزل شوق میں کوئی نقش پا ہی نہیں ملا کئی راز دار بتاں بھی تھے کئی رازدار حرم بھی تھے مرے اشتیاق نگاہ کو صنم آشنا ہی نہیں ملا کوئی متقی کوئی پارسا کوئی رند کوئی جنوں ادا یہ سبھی ملے ہیں مجھے مگر کوئی بے خطا ہی نہیں ملا رہ مرحلات خلوص میں مرے دل سے تیری نگاہ تک مجھے جذب شوق کے ماسوا کوئی رہنما ہی نہیں ملا یہ بڑی عجیب سی بات ہے کہ تعلقات حیات میں مجھے خود نما تو ملے مگر کوئی رہنما ہی نہیں ملا وہ جنوں مقام و جنوں ادا وہ تمہارا باسطؔ با وفا مگر اس کا ہمسر و ہم نوا کوئی دوسرا نہیں ملا
kabhi marhalaat-e-hayaat mein koi ham-navaa hi nahin milaa
اجازت ہو تو میں شرح حیات رائیگاں کر لوں زباں کو دل بنا لوں اور نظر کو داستاں کر لوں غم دل کے اجالے میں مرتب داستاں کر لوں وفا کی آڑ لے کر آپ کہہ دیں تو فغاں کر لوں مناسب ہو تو اب تاروں کی شمعیں آپ گل کر دیں بہت ممکن ہے شاید میں انہیں بھی راز داں کر لوں مرا عزم و یقیں بھاری رہا ہے ہر زمانے پر میں اب بھی ضد پہ آ جاؤں تو حاصل دو جہاں کر لوں ارادہ کر چکا ہوں تو چلا ہی جاؤں گا لیکن ذرا کچھ اور باسطؔ انتظار کارواں کر لوں
ijaazat ho to main sharh-e-hayaat-e-raaegaan kar luun





