
Basudeo Agarwal Naman
Basudeo Agarwal Naman
Basudeo Agarwal Naman
Ghazalغزل
ghabraae hue log hain anjaane se Dar se
گھبرائے ہوئے لوگ ہیں انجانے سے ڈر سے ہر ایک بشر خوف زدہ دوجے بشر سے دوبھر ہے یہاں آج تو باہر ہی نکلنا محفوظ نہیں کوئی زمانے کی نظر سے انجانی ڈگر لگنے لگی اب مجھے آساں کچھ لوگ ابھی لوٹ کے آئے ہیں سفر سے بے درد پیا جیسا تو کیوں ابر بنا ہے کب سے ہی لگا آس زمیں بیٹھی تو برسے اتنی تو اٹھا لے او نمن اپنی خودی کو دشمن بھی ترا کرنے کو یاری تری ترسے
DhunDhun bhalaa khudaa ki main rahmat kahaan kahaan
ڈھونڈھوں بھلا خدا کی میں رحمت کہاں کہاں اب کیا بتاؤں اس کی عنایت کہاں کہاں صحرا ندی پہاڑ سمندر یہ دشت سب دکھلائے سب خدا کی یہ وسعت کہاں کہاں ہر سمت ہر طرح کے دکھے اس کے معجزے جیسے خدا نے لکھ دی عبارت کہاں کہاں ساون میں سبزیت سے ہے سیراب یہ فضا بہلاؤں میں الٰہی طبیعت کہاں کہاں کوئی نہ جان پایا خدا کی خدائی کو یہ غم کہاں کہاں یہ مسرت کہاں کہاں اندر ذرا تو جھانکتے اپنے کو بھول کر باہر خدا کی ڈھونڈھتے صورت کہاں کہاں رتبہ ہے زندگانی و نیت خدا سے طے انسان پھر بھی کرتا مشقت کہاں کہاں انسانیت عطا تو کی انسان کو خدا پھیلا رہا وہ دیکھ تو دہشت کہاں کہاں کہتا نمن کہ ایک خدا ہے جہان میں جیسے بھی پھر ہو اس کی عبادت کہاں کہاں
gardish mein sitaare hon jis ke duniyaa ko bhalaa kab bhaataa hai
گردش میں ستارے ہوں جس کے دنیا کو بھلا کب بھاتا ہے وہ لاکھ پٹک لے سر اپنا پر جگ سے سزا ہی پاتا ہے مفلس کا بھی جینا کیا جینا جو گھونٹ لہو کے پی جائے جتنا وہ جھکے جگ کے آگے اتنی ہی وہ ٹھوکر کھاتا ہے اے درد چلا جا اور کہیں اس دل کو بھی تھوڑی راحت ہو کیوں اٹھ کے غریبوں کے در سے مجھ کو ہی صدا تڑپاتا ہے اتنا بھی نہ اچھا وحشی پن دولت کے نشہ میں پاگل سن جو ہے نہ کبھی ٹکنے والی اس چیز پہ کیوں اتراتا ہے بھیجا تھا بنا جس کو رہبر پر پیش وہ رہزن سا آیا اب کیسے یقیں اس پر کر لیں جو رنگ بدل پھر آتا ہے مانا کہ جہاں نایاب خدا کاریگری ہے اس میں تیری پر دل کو منائیں کیسے ہم رہ کر جو یہاں گھبراتا ہے یہ شوق نمن نے پالا ہے دکھ درد پروتا غزلوں میں بے درد زمانے پر ہنستا مظلوم پے آنسو لاتا ہے





