
Bayan Yazdani
Bayan Yazdani
Bayan Yazdani
poet
2Ghazal
Ghazalغزل
غزل · Ghazal
ترا کشتہ اٹھایا اقربا نے چلے محشر کو مٹی میں دبانے نفس گم اور سخن باقی رہے گا نہ ہوگا تار اور ہوں گے ترانے خدا ٹھنڈا رکھے اے شمع تجھ کو کھڑی روتی ہے بیکس کے سرہانے ترے چلنے سے سینے میں زمیں کے اٹھا اک درد محشر کے بہانے ہمیں نے پنجۂ دست جنوں سے کئے ہیں کوہ کی چوٹی میں شانے
tiraa kushta uThaayaa aqrabaa ne
غزل · Ghazal
جھونکے آتے ہیں بوئے الفت کے پھول یا رب ہیں کس کی تربت کے شور ہے دل میں غم کے نالوں کا علم اٹھتے ہیں آج حسرت کے تیری باتوں میں کیا حلاوت تھی کہ نہ لب کھل سکے شکایت کے ہم پہ اور تیغ ناز اٹھ نہ سکے چوچلے ہیں تری نزاکت کے اے بیاںؔ قیس و وامق و فرہاد تھے یہ سارے مرید حضرت کے
jhonke aate hain bu-e-ulfat ke





