Begum Mumtaz Mirza
Begum Mumtaz Mirza
Begum Mumtaz Mirza
Ghazalغزل
محرومیٔ دوام پہ نازاں کوئی تو ہو اے دل جفائے دوست کے شایاں کوئی تو ہو آخر کسی کو کہہ تو سکیں رفتۂ بہار پھولوں کی طرح چاک گریباں کوئی تو ہو برق چمن کو ہم سے عداوت نہیں مگر ایام گل میں سوختہ ساماں کوئی تو ہو کوئی کلی تو کھل کے ہنسے صحن باغ میں اے دل حریف گردش دوراں کوئی تو ہو رسوائیاں کہ دار و رسن یا در حبیب ممتازؔ اپنی زیست کا عنواں کوئی تو ہو
mahrumi-e-davaam pe naazaan koi to ho
یہ رنگ وفا لطف کے انداز تو دیکھو انجام ابھی دور ہے آغاز تو دیکھو پھر جاگ اٹھی مردہ و خوابیدہ تمنا انجام ابھی دور ہے آغاز تو دیکھو پھر جاگ اٹھی مردہ و خوابیدہ تمنا اک رشک مسیحا کا یہ اعجاز تو دیکھو پھر دیدہ و دل میں ہے وہی کیف کا عالم جذب و اثر حسن فسوں ساز تو دیکھو اک جذبۂ بے نام لیے پھرتا ہے دل کو اس طائر پر بستہ کی پرواز تو دیکھو ممتازؔ ہر احساس کو بخشا ہے نیا روپ یہ معجزۂ عشق صنم ساز تو دیکھو
ye rang-e-vafaa lutf ke andaaz to dekho
لائی بہار شوق کے ساماں نئے نئے دنیا نئی نئی سی دل و جاں نئے نئے ساقی کی اک نگاہ نے بخشی حیات نو دل میں مچل گئے مرے ارماں نئے نئے ہر آن طرز نو سے ستائے ہے آسماں میرے لیے ستم کے ہیں عنواں نئے نئے بربادیوں کا میرے نشیمن کی غم نہ کر تعمیر ہو رہے ہیں گلستاں نئے نئے فصل بہار آئی مبارک ہو اے جنوں دامن نئے نئے ہیں گریباں نئے نئے اس چشم نیم باز کی وہ کم نگاہیاں دل میں اتر گئے مرے پیکاں نئے نئے دل پھر شکار وعدۂ فردائے دوست ہے پھر سے ہوئے ہیں موت کے ساماں نئے نئے مسجد میں بھی فسانہ بتوں کا جناب شیخ شاید ہوئے ہیں آپ مسلماں نئے نئے ممتازؔ اک چراغ سر رہ گزر سہی ہوں گے چراغ اس سے فروزاں نئے نئے
laai bahaar shauq ke saamaan nae nae
وفا فریب نظر کھا گئی تو کیا ہوگا خلوص شوخ پہ آنچ آ گئی تو کیا ہوگا یہ نو دمیدہ یہ معصوم آرزو کی کلی بھری بہار میں مرجھا گئی تو کیا ہوگا یہ چاندنی جو تری یاد سے عبارت ہے یہ چاندنی بھی جو کجلا گئی تو کیا ہوگا ابھی تو ایک شرارہ ہے غنچۂ نورس یہ آگ نشو و نما پا گئی تو کیا ہوگا میں دل کو راہ وفا سے ہٹا تو لوں ممتازؔ جبیں نشان قدم پا گئی تو کیا ہوگا
vafaa fareb-e-nazar khaa gai to kyaa hogaa
سواد دشت کہ صحن چمن سے گزرے ہیں جہاں سے گزرے بڑے بانکپن سے گزرے ہیں تغیرات زمانہ سے کیا ڈراتے ہو ہم آزمائش دار و رسن سے گزرے ہیں بھرا ہوا ہے گلوں سے نگاہ کا دامن نہ جانے کون صلیبوں کے بن سے گزرے ہیں ہر ایک شاخ ہے رقصاں ہر ایک گل خنداں صبا کے قافلے صحن چمن سے گزرے ہیں کیا ہے جب بھی تصور حیات کا ممتازؔ ہر ایک بار اسی انجمن سے گزرے ہیں
savaad-e-dasht ki sehn-e-chaman se guzre hain
یہ میں نے کیا کیا کہ جفا اور بڑھ گئی جرم وفا کے بعد سزا اور بڑھ گئی گل ہائے رنگ رنگ ہیں ان کو نہیں ثبات چپکے سے یہ صبا نے کہا اور بڑھ گئی اک برق جاں فروز مرے آشیاں کے پاس ٹھہری بس اک ذرا کی ذرا اور بڑھ گئی اے رب دو جہاں تری رحمت کے میں نثار کس جرم کی بنا پہ سزا اور بڑھ گئی ممتازؔ یوں تو بزم میں لاکھوں چراغ ہیں آنے سے تیرے کچھ تو ضیا اور بڑھ گئی
ye main ne kyaa kiyaa ki jafaa aur baDh gai





