
Betab Amrohvi
Betab Amrohvi
Betab Amrohvi
Ghazalغزل
بیتابؔ تو کافر ہے مسلمان نہیں ہے اور اس پہ ستم یہ کہ پشیمان نہیں ہے یہ عشق کی منزل ہے ذرا سوچ سمجھ کر یہ تجربہ اپنا ہے کہ آسان نہیں ہے ہر بات پہ کہتے ہو جو آمین کئی بار کیا تم کو مری بات پر ایمان نہیں ہے وہ دل میں مرے دل کے لئے سوچ رہے ہیں مل جائے اگر مفت تو نقصان نہیں ہے اب تو سر بالیں مرے رؤو نہ خدارا دیکھو تو کہ اس جسم میں اب جان نہیں ہے
'betaab' to kaafir hai musalmaan nahin hai
یہ دنیا اگر رشک جنت نہ ہوتی ہمیں زندگی کی ضرورت نہ ہوتی مجھے آپ سے گر عقیدت نہ ہوتی محبت فریب محبت نہ ہوتی نہ ہوتے اگر ہم سے عاصی جو مولیٰ تو کیا تیری توہین رحمت نہ ہوتی بھلا کیسے ممکن تھا یہ تم ہی کہہ دو چلے جاتے تم اور قیامت نہ ہوتی
ye duniyaa agar rashk-e-jannat na hoti
اشک آنکھوں میں کیوں بے کراں آ گئے کیا تمہیں یاد ہم جان جاں آ گئے یہ قفس ہے ہمارا نشیمن نہیں ہم چمن سے نکل کر کہاں آ گئے دوستوں کی تمنا میں نکلے تھے ہم دشمنوں کے مگر درمیاں آ گئے ہم کو پینے پلانے کی عادت نہیں ہم تو بس یوںہی پیر مغاں آ گئے ہم کو دنیا کی خواہش نہیں تھی مگر تیری باتوں میں ہم آسماں آ گئے
ashk aankhon mein kyon be-karaan aa gae
اگر یوں آئینہ دیکھا نہ جائے تمہارے ماسوا دیکھا نہ جائے لگا لو مجھ کو سینے سے خدارا کہ دل دل سے جدا دیکھا نہ جائے نکل جائے صنم خانے سے آذر یہ پتھر کا خدا دیکھا نہ جائے تمہیں سوچو زمانہ کیا کہے گا اگر اچھا برا دیکھا نہ جائے شکستہ دل گریباں چاک بیتابؔ یہ حال اور آپ کا دیکھا نہ جائے
agar yuun aaina dekhaa na jaae
نقاب رخ سے ہٹا دوں اگر اجازت ہو یہ چاند جگ کو دکھا دوں اگر اجازت ہو کہو تو ان لب و رخسار کو ذرا چھو لوں کلی کلی کو ہٹا دوں اگر اجازت ہو مرے قریب کوئی جیسے حور بیٹھی ہے حضور آئنہ لا دوں اگر اجازت ہو تمہارے قدموں تلے کہکشاں کے تاروں کا ذرا یہ فرش بچھا دوں اگر اجازت ہو مچل رہا ہے مرے دل میں ذوق نظارہ یہیں میں طور بنا دوں اگر اجازت ہو طلب ہو گر تمہیں بیتابؔ ماہ تاباں کی فراز عرش جھکا دوں اگر اجازت ہو
naqaab rukh se haTaa duun agar ijaazat ho
بیتابؔ ہمارا ذوق نظر گر ان کے مقابل آ جائے وہ پردہ نشیں ہوں محمل میں تو سامنے محمل آ جائے میں راہ طلب میں سرگرداں اس آس پہ یاں تک پہنچا ہوں اس گام پہ منزل آ جائے اس گام پہ منزل آ جائے اے کاتب قسمت یہ تو بتا کیا یہ ہی ہے تقدیر مری اک مشکل سے چھٹکارا ہو تو دوسری مشکل آ جائے یوں پیار بھری نظروں سے مجھے دیکھو نہ خدارا باز آؤ الزام نہ دینا پھر مجھ کو گر تم پہ مرا دل آ جائے بیتابؔ یہ کوئی جینا ہے ہم جیسے غم کے ماروں کا ہر لمحہ یہی اک خطرہ رہے کب جانے قاتل آ جائے
'betaab' hamaaraa zauq-e-nazar gar un ke muqaabil aa jaae





