Betab Kaifi
Betab Kaifi
Betab Kaifi
Ghazalغزل
be-chehragi ke shahr mein chehra talaash kar
بے چہرگی کے شہر میں چہرہ تلاش کر بیتاب ریگزار میں سایہ تلاش کر محرومیوں کا اپنی ازالہ تلاش کر وجہ شکوہ و شان گزشتہ تلاش کر جس سے دل و دماغ کو آسودگی ملے دور حیات میں وہی لمحہ تلاش کر آہن پہ سنگ و خشت چلانے سے فائدہ مشق ستم دکھانے کو شیشہ تلاش کر جس رسم سے عروس وفا شرمسار ہو اس رسم سے فرار کا رستہ تلاش کر پاکیٔ روح و تزکیہ قلب کے لئے عرفان ذات کا ہی ذریعہ تلاش کر حرص و ہوس کی دھوپ بصارت نہ چھین لے بیتابؔ دل کی آنکھ کا سرمہ تلاش کر
lashkar-e-vahm-o-gumaan dil ke badalte hi mile
لشکر وہم و گماں دل کے بدلتے ہی ملے بحر ظلمات حسیں پھول مسلتے ہی ملے جو شرافت کے حسیں خول میں ملبوس رہے میکدے میں وہی کل شام کو ڈھلتے ہی ملے بے حسی بغض و عناد اور فریب و نفرت دل میں اس عہد کے تحفے کئی پلتے ہی ملے انجمن میں جو رہے برف کی چادر اوڑھے زندگی بھر کف افسوس وہ ملتے ہی ملے بے کراں فکر سے بیتابؔ کہاں فرصت تھی مسئلے زیست کے ہر وقت مچلتے ہی ملے
chhin kar mujh se miri aah-o-fughaan tak le gayaa
چھین کر مجھ سے مری آہ و فغاں تک لے گیا رقص صبح و شام کا اشک رواں تک لے گیا چند لوگوں نے شرر آگیں کیا گلزار کو تند طوفاں آشیاں در آشیاں تک لے گیا فصل درد و غم لہو بردار یہ جلتی ہوا ارتقائے دہر شاید آسماں تک لے گیا نقش پائے حادثات و موت کی خوشبو ملی ہم نوا میرا مجھے جس جس مکاں تک لے گیا جس بلندی پر کھڑا ہوں واپسی ممکن نہیں لمحۂ دوراں زمیں سے آسماں تک لے گیا دشت بے حد میں اسے کیسے بھلا منزل ملے ریگ کا جھونکا نشان کارواں تک لے گیا جسم اے بیتابؔ چلتی پھرتی زندہ لاش ہے وقت کا طوفاں خرد کی دھجیاں تک لے گیا
zindagi ke shahr mein jab jab ghanaa saaya huaa
زندگی کے شہر میں جب جب گھنا سایہ ہوا بے کراں غم کا سمندر اور بھی گہرا ہوا عصر نو کی آدمیت کا ہے بس یہ تجزیہ ایک شیشہ ہے زمیں پر ٹوٹ کر بکھرا ہوا حادثوں کا لفظ مہمل ہو گیا ہے آج کل ایک عالم ہے صلیب و دار پر لٹکا ہوا اب کسی کردار پر انگلی اٹھانا ہے محال ہر بشر اس دور میں ہے دودھ کا دھویا ہوا آ گیا ہے کون میرے درد کی دہلیز پر دل کے دروازے پہ کس کی یاد کا کھٹکا ہوا پڑھ رہا ہے آج کل وہ داستان زندگی پھر رہا ہے اس لئے ہر سمت گھبرایا ہوا کھو گیا بیتاب کیفیؔ گمرہی کے دشت میں قافلہ اکثر نشان راہ سے بھٹکا ہوا
muztarib ruuh mein taskin ke saamaan aae
مضطرب روح میں تسکین کے ساماں آئے عمر میں ایسے بھی لمحات فروزاں آئے شمع احساس خودی میں نے فروزاں کر لی دل کی وادی میں ہزار آنے کو طوفاں آئے درد بڑھتا ہی گیا کچھ بھی افاقہ نہ ہوا غم کدوں میں تو بہت درد کے درماں آئے آتش بغض سلگتی ہے یہاں گھر گھر میں اب نہ بستی میں کوئی واعظ ناداں آئے میں نوازا گیا ہر وقت بیابانوں سے میرے حصے میں فقط خواب گلستاں آئے خانۂ دل میں سمٹ آئے ہیں چپکے چپکے مسئلے کتنے بانداز خراماں آئے بے قراری کا ستم ختم ہوا ہے جس پر پھر تری زد میں نہ اے گردش دوراں آئے تم بھی بیتابؔ ذرا سوچ سمجھ کر جانا کوچۂ عشق سے سب لوگ ہراساں آئے
barsegi kis makaan mein gham ki ghaTaa nahin
برسے گی کس مکان میں غم کی گھٹا نہیں اس زہر خیز وقت کا لیکن پتا نہیں ہر گام تیرگی کا ہوا سامنا مجھے شاید مرے نصیب میں لطف ضیا نہیں ملتا نہیں خلوص سے یہ اور بات ہے لیکن وہ کچھ خلوص سے نا آشنا نہیں پامال ایک دن میں کرے لاکھ کوہ غم اے وقت تیری قوت بازو میں کیا نہیں دینے لگی فریب گلوں کو بہار بھی اب سازگار عہد چمن کی ہوا نہیں ہر منزل ستم سے میں آساں گزر گیا آندھی میں بھی چراغ محبت بجھا نہیں بیتابؔ جی رہا ہوں یہاں اور بات ہے لیکن میں اپنے آپ کو پہچانتا نہیں





