Bezar Dehlavi
اس طرح سے کچھ مٹائے درد دل موت کی صورت دکھائے درد دل اب نشان دل بھی مل سکتا نہیں دیکھنی ہے انتہائے درد دل دل کی حالت غیر ہوتی ہے تو ہو ہم نہ مانگیں گے دوائے درد دل پوچھتے کیا ہو مرے دل میں ہے کیا کچھ نہیں اس میں سوائے درد دل درد دل کا خاک وہ جانے مزہ جو نہیں ہے مبتلائے درد دل خود مسیحا بھی ہے اس سے بے خبر بندھ گئی کیسی ہوائے درد دل ہو گئے بیزارؔ ہم تصویر مرگ تھا یہی تو مدعائے درد دل
is tarah se kuchh miTaae dard-e-dil