Bharat Angara
جانے کیا کچھ سن کر لوٹا چپ ہے وہ جب سے گھر لوٹا بچپن کا ہر ننھا سپنا تھک کر بوڑھا ہو کر لوٹا وہ بھی آگ بجھانے نکلا وہ بھی ہاتھ جلا کر لوٹا جانے کیا ساحل سے کہہ کر الٹے پاؤں سمندر لوٹا
jaane kyaa kuchh sun kar lauTaa