SHAWORDS
Bhavesh Dilshad

Bhavesh Dilshad

Bhavesh Dilshad

Bhavesh Dilshad

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

kahaan pahunchegaa vo kahnaa zaraa mushkil saa lagtaa hai

کہاں پہنچے گا وہ کہنا ذرا مشکل سا لگتا ہے مگر اس کا سفر دیکھو تو خود منزل سا لگتا ہے نہیں سن پاؤ گے تم بھی خموشی شور میں اس کی اسے تنہائی میں سننا بھری محفل سا لگتا ہے بجھا بھی ہے وہ بکھرا بھی کئی ٹکڑوں میں تنہا بھی وہ صورت سے کسی عاشق کے ٹوٹے دل سا لگتا ہے وہ سپنا سا ہے سایہ سا وہ مجھ میں موہ مایا سا وہ اک دن چھوٹ جانا ہے ابھی حاصل سا لگتا ہے یہ لگتا ہے اس اک پل میں کہ میں اور تو نہیں ہیں دو وہ پل جس میں مجھے ماضی ہی مستقبل سا لگتا ہے

غزل · Ghazal

na qarib aa na to duur jaa ye jo faasla hai ye Thiik hai

نہ قریب آ نہ تو دور جا یہ جو فاصلہ ہے یہ ٹھیک ہے نہ گزر حدوں سے نہ حد بتا یہی دائرہ ہے یہ ٹھیک ہے نہ تو آشنا نہ ہی اجنبی نہ کوئی بدن ہے نہ روح ہی یہی زندگی کا ہے فلسفہ یہ جو فلسفہ ہے یہ ٹھیک ہے یہ ضرورتوں کا ہی رشتہ ہے یہ ضروری رشتہ تو ہے نہیں یہ ضرورتیں ہی ضروری ہیں یہ جو واسطہ ہے یہ ٹھیک ہے میری مشکلوں سے تجھے ہے کیا تیری الجھنوں سے مجھے ہے کیا یہ تکلفات سے ملنے کا جو بھی سلسلہ ہے یہ ٹھیک ہے ہم الگ الگ ہوئے ہیں مگر ابھی کنپکنپاتی ہے یہ نظر ابھی اپنے بیچ ہے کافی کچھ جو بھی رہ گیا ہے یہ ٹھیک ہے مری فطرتوں میں ہی کفر ہے مری عادتوں میں ہی عذر ہے بنا سوچے میں کہوں کس طرح جو لکھا ہوا ہے یہ ٹھیک ہے

غزل · Ghazal

kabhi to saamne aa be-libaas ho kar bhi

کبھی تو سامنے آ بے لباس ہو کر بھی ابھی تو دور بہت ہے تو پاس ہو کر بھی تیرے گلے لگوں کب تک یوں احتیاطاً میں لپٹ جا مجھ سے کبھی بد حواس ہو کر بھی تو ایک پیاس ہے دریا کے بھیس میں جانا مگر میں ایک سمندر ہوں پیاس ہو کر بھی تمام اہل نظر صرف ڈھونڈھتے ہی رہے مجھے دکھائی دیا سورداس ہو کر بھی مجھے ہی چھو کے اٹھائی تھی آگ نے یہ قسم کہ ناامید نہ ہوگی اداس ہو کر بھی

غزل · Ghazal

milti muddat mein hai aur pal mein hansi jaati hai

ملتی مدت میں ہے اور پل میں ہنسی جاتی ہے زندگی یوں ہی کٹی یوں ہی کٹی جاتی ہے اپنی چادر میں اسے کھینچ لیا لپٹے رہے چاندنی یوں ہی چھوئی یوں ہی چھوئی جاتی ہے بھیگی آنکھوں سے کبھی بھیگے لبوں سے ہو کر شاعری یوں ہی بہی یوں ہی بہی جاتی ہے عشق اس سے بھی کیا تم سے بھی کر لیتے ہیں بندگی یوں ہی ہوئی یوں ہی ہوئی جاتی ہے آپ کی یاد بھی بس آپ کے ہی جیسی ہے آ گئی یوں ہی ابھی یوں ہی ابھی جاتی ہے

غزل · Ghazal

kaisi kaisi nahin kartaa rahaa man-maani main

کیسی کیسی نہیں کرتا رہا من مانی میں سوچ کر اپنے لئے لکھتا تھا لا فانی میں بھیڑ میں سب کی طرح ظلم پے چپ چاپ رہا آج پھر اک دفعہ مر گیا انسانی میں پیدا ہونے کے تو مطلب نہ رہے ہوں گے کچھ بس کہ اب مرنا نہیں چاہتا بے معنی میں ایک تاریخ کی تعمیر کرے وہ لمحہ ایک سمندر جو رچے بوند وہی یعنی میں

Similar Poets