Bhavesh Rajput
ہم اعتبار جنوں بار بار کرتے رہے صلاح کار ہمیں ہوشیار کرتے رہے تمام عمر جفاؤں کو عاشقی جانا تمام عمر ستمگر سے پیار کرتے رہے جو میرے بعد ترے ہو نہیں سکے وہ لوگ تری تباہیوں کو غم گسار کرتے رہے تری امید بھی توڑی خطا بھی کی ہم نے خدا کی ذات یوں ہی شرم سار کرتے رہے ہمیں پہ بار سخن رکھ کے چل دئے غالبؔ ہمیں سخنوری میں برگ و بار کرتے رہے
ham e'tibaar-e-junun baar baar karte rahe