
Bhoomi Srivastava
Bhoomi Srivastava
Bhoomi Srivastava
Ghazalغزل
کبھی مجھ کو کھنکتی چوڑیاں دشمن سی لگتی ہیں تمہیں سنتے ہوئے سب بولیاں دشمن سی لگتی ہیں بھلے اک دو قدم کے فاصلے پہ تم کھڑے ہو پر مجھے اتنی بھی تم سے دوریاں دشمن سی لگتی ہیں تمہارے گرد دنیا خوبصورت ہے مگر مجھ کو تمہارے پاس بیٹھی لڑکیاں دشمن سی لگتی ہیں تمہارے بن نظاروں کی نمائش بھی نہیں ہوتی تمہارے بن یہ ندیاں گھاٹیاں دشمن سی لگتی ہیں
kabhi mujh ko khanakti chuDiyaan dushman si lagti hain
یہ شیشے میں نظر آتی اگر صورت تمہاری ہے ذرا اس کو سنوارو تم کہ یہ طاقت تمہاری ہے جہاں میں کون ایسا ہے جسے دشمن سے الفت ہو تمہی ایسی سیانی ہو یہی فطرت تمہاری ہے گلے سے آ رہی آواز کو تم نے دبایا کیوں ہمیں معلوم ہے کچھ بولنا حسرت تمہاری ہے خبر ہے کیا تمہیں تم ہو کسی تعویذ کے جیسی ملی جو خیریت سب کو فقط رحمت تمہاری ہے
ye shishe mein nazar aati agar surat tumhaari hai
تصور میں مرا جس سے تعلق دل لگی کا ہے حقیقت میں اسی سے واسطہ پھر دوستی کا ہے ہماری داستاں میں بھنورا ہے وہ اور میں گل ہوں تو ظاہر ہے کہ وہ میرے علاوہ بھی کسی کا ہے مجھے اس کی خطائیں اس لئے دلچسپ لگتی ہیں مجھے پکڑے ہوئے ہے ایک جن جو عاشقی کا ہے طریقے تھے کئی سارے اسے یوں روک لینے کے مگر میرے لیے تو مسئلہ اس کی خوشی کا ہے سمجھتی ہوں جسے اپنا اسی سے پھر جدا ہونا لگے ایسے کہ لمحہ آخری یہ زندگی کا ہے
tasavvur mein miraa jis se ta'alluq dil-lagi kaa hai





