Bilqees Zafar
dil thaa hamaaraa sone jaisaa ab tum ko jatlaayein kyaa
دل تھا ہمارا سونے جیسا اب تم کو جتلائیں کیا الفت میں کیا دکھ جھیلے ہیں ہم نے یہ بتلائیں کیا اب کے برس بھی ساون برسا ویسا ہی کچھ پاگل سا کالی گھٹائیں کیسے اٹھیں سارا کچھ بتلائیں کیا گلشن میں ہے پھر وہ بہاراں جس کے تم شیدائی تھے چشم تصور سے ہی دیکھو لفظوں میں دکھلائیں کیا دل کی ضد تو دیکھو کیا انہونی باتیں کرتا ہے شام و سحر کی ڈوریں چھوٹیں اب اس کو بہلائیں کیا زیست عبارت ہے اک ایسی پڑھ نہ سکو گے جانے دو لفظ کے دیپک جو ہیں روشن ہم ان کو گہنائیں کیا