Bilquis Begum
Bilquis Begum
Bilquis Begum
Ghazalغزل
maatam-kada banaa hai gulistaan tire baghair
ماتم کدہ بنا ہے گلستاں ترے بغیر ہر گل ہوا ہے چاک گریباں ترے بغیر لمحات پر سکون کہاں اور میں کہاں بکھرا پڑا ہے ہوش کا ساماں ترے بغیر
yahi ik mashghala shaam-o-sahar hai
یہی اک مشغلہ شام و سحر ہے تصور ہے ترا اور چشم تر ہے اسے ذکر بہار و باغ سے کیا قفس کو جو سمجھتا ہو کہ گھر ہے شب فرقت ہے اپنی کیسی پنہاں کہ جس کی شام محروم سحر ہے
qaasid tu khat ko laayaa hai kyunkar khulaa huaa
قاصد تو خط کو لایا ہے کیوں کر کھلا ہوا خط ہے کہ ہے یہ میرا مقدر کھلا ہوا پڑتے ہی اک نظر ہوا زخمی دل و جگر قاتل تری نظر ہے کہ خنجر کھلا ہوا قاصد سے کیا کہوں میں لکھوں خط میں ان کو کیا پنہاں کے دل کا حال ہے ان پر کھلا ہوا
aataa hai koi lutf kaa saamaan liye hue
آتا ہے کوئی لطف کا ساماں لیے ہوئے ہشیار اے خیال پریشاں لیے ہوئے اس سے نہ اضطراب محبت کو پوچھیے جو جی رہا ہو درد کا احساں لئے ہوئے بے چین کروٹوں سے یہ ظاہر ہے صاف صاف پنہاں ہی دل میں ہے غم پنہاں لیے ہوئے
aankhon se kabhi kucha-e-jaanaan nahin dekhaa
آنکھوں سے کبھی کوچۂ جاناں نہیں دیکھا بلبل ہوں مگر صحن گلستاں نہیں دیکھا کہتے ہیں دوپٹے سے چھپا کر رخ روشن دیکھو یہ چراغ تہ داماں نہیں دیکھا





