SHAWORDS
Bismillah Adeem

Bismillah Adeem

Bismillah Adeem

Bismillah Adeem

poet
17Ghazal

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

chaman kaa husn bahaaron ki shokhiyaan le kar

چمن کا حسن بہاروں کی شوخیاں لے کر وہ آ رہے ہیں نگاہوں میں مستیاں لے کر ترے خلوص پہ ساقی نہ حرف آ جائے میں پی رہا ہوں زمانے سے تلخیاں لے کر تمہاری شوخ نگاہوں نے تازگی بخشی دلوں کے غنچے چٹکتے ہیں سسکیاں لے کر شعور ذات میں احساس کا دیا رکھ دو زمانہ مد مقابل ہے آندھیاں لے کر مجھے نہ آ کے جگا دینا خواب شیریں سے میں سو رہا ہوں تمہاری نشانیاں لے کر عدیمؔ آج میں اہل سخن کی محفل سے چلا ہوں اپنے تخیل کی دھجیاں لے کر

غزل · Ghazal

thaa hamaaraa yaqin saraabon par

تھا ہمارا یقیں سرابوں پر کاٹ دی عمر جھوٹے وعدوں پر وقت کا انتقام تو دیکھو برف رکھ دی مرے ارادوں پر جگنوؤں کا گمان ہوتا ہے جلتے بجھتے ہوئے چراغوں پر ہم نے بنیاد زندگی رکھ دی اپنے فرخندہ سے خیالوں پر اپنی چھت کو بچا کے رکھیے گا ہے ہوا کی نظر مکانوں پر ذہن انساں کا آج ہے ماؤف انگنت بوجھ ہے دماغوں پر شعر بے مثل تھے عدیمؔ اپنے اس نے لکھا ہے جو کتابوں پر

غزل · Ghazal

daastaan-e-gardish-e-ayyaam likhtaa jaaungaa

داستان گردش ایام لکھتا جاؤں گا میں مؤرخ ہوں ترا انجام لکھتا جاؤں گا رہ نہ جائے سونا سونا تیری ہستی کا ورق خوبصورت سا کوئی الزام لکھتا جاؤں گا اس صدی نے جس قدر رنج و غم بخشے مجھے بس اسی کی داستاں ہر گام لکھتا جاؤں گا رنگ برنگی تتلیوں اور جگنوؤں کے واسطے دکھ اچھوتے کچھ نرالے کام لکھتا جاؤں گا ہر جگہ پھیلائی ہے میں نے قلم کی روشنی جس طرف جاؤں گا اک پیغام لکھتا جاؤں گا کیوں عذاب جاں اسے دنیا سمجھتی ہے عدیمؔ زخم گہرے ہی سہی انعام لکھتا جاؤں گا

غزل · Ghazal

phulon ki narm chhaaon mein jaltaa rahaa badan

پھولوں کی نرم چھاؤں میں جلتا رہا بدن فطرت میں سنگ ہو کے پگھلتا رہا بدن عیش و طرب کے سائے میں پلتی رہی حیات حرص و ہوس کی آگ میں جلتا رہا بدن مردہ ضمیر ہو گئے حالات کے سبب پوشاک مصلحت کی بدلتا رہا بدن بحر تفکرات کی یورش نہ پوچھئے پانی میں رہ کے آگ اگلتا رہا بدن دنیا کی دھوپ چھاؤں میں رہنے کے بعد بھی غنچہ کی طرح پھولتا پھلتا رہا بدن سرو و سمن شگوفہ گل و لالہ نسترن کتنے ہی زاویوں میں وہ ڈھلتا رہا بدن ماضی کے نشتروں کے کچوکوں سے اے عدیمؔ ہو کر لہولہان مچلتا رہا بدن

غزل · Ghazal

fasaana kaise likhun ashk-baar aankhon kaa

فسانہ کیسے لکھوں اشک بار آنکھوں کا فسردہ رنگ ہے منظر حسین جھیلوں کا نظام نو سے یہ اجرت سوال کرتی ہے پسینہ خشک ہے مزدور کی جبینوں کا میں خواہشات کا ملبوس پہنے بیٹھا ہوں بہت عجیب سا منظر ہے زرد پتوں کا پیام باد صبا نے سنا دیا ایسا شگفتہ ہو گیا پل میں مزاج زخموں کا نجانے کون سی منزل کی جستجو میں عدیمؔ فضا میں اڑتا ہوا غول ہے پرندوں کا

غزل · Ghazal

aankhon ki bahti jhiil mein manzar talaash kar

آنکھوں کی بہتی جھیل میں منظر تلاش کر اشک رواں میں پھر کوئی پیکر تلاش کر یہ کیا غضب ہے اس نے تری پیاس چھین لی کس نے کہا تھا تجھ سے سمندر تلاش کر آثار کہہ رہے ہیں زمانے کے روز و شب یہ دور عہد شر ہے نہ رہبر تلاش کر ہاتھوں سے مٹ بھی سکتا ہے تقدیر کا لکھا علم و عمل کی راہ سے گوہر تلاش کر ناکامیوں پہ اپنی پشیماں نہ ہو عدیمؔ پھر اک نئی زمیں نیا امبر تلاش کر

Similar Poets