B.M Khan Maley
B.M Khan Maley
B.M Khan Maley
Ghazalغزل
محفل میں جانے کیسے سر عام آ گیا آخر زباں پہ اس کے مرا نام آ گیا میں نے چھپا کے رکھا تھا جو دل میں راز عشق خط میں قبول لکھ کے وہ پیغام آ گیا کیسے کہوں فلک میں تجھے کتنا خوش ہوں آج یہ دیکھ لے دعاؤں کا انعام آ گیا ساقی سے آنکھوں آنکھوں میں خالی اشارتاً کہنے کی دیر تھی کہ بھرا جام آ گیا قاتل کا پردہ فاش کیا جبکہ میں نے خود مجھ پر ہی حیف قتل کا الزام آ گیا اب کچھ نہ ہوگا جاگ کے غفلت کی نیند سے سورج غروب ہونے لب بام آ گیا صیاد کے بغیر معالےؔ نہ رہ سکا گھر لوٹ کر پرندہ سر شام آ گیا
mahfil mein jaane kaise sar-e-aam aa gayaa
اے انس خلیفہ ہے تو خاقان نہیں ہے تو میزباں ہے ارض پہ مہمان نہیں ہے یہ بات بھی ہے سچ کہ غلط طرز عمل سے دنیا میں ترا جینا اب آسان نہیں ہے کیا فائدہ ہے دنیا کمانے کا اے ناداں ٹل جائے اجل یہ بھی تو امکان نہیں ہے ماحول بنا پیار و اخوت کا زمیں پر تو اعلیٰ بشر ہے کوئی شیطان نہیں ہے تیرا نہیں شیوہ ہے اداکاری سمجھ لے اے خاکی نمائش کا تو سامان نہیں ہے پڑھ لکھ کے معالےؔ تو بنا اپنا مقدر حاکم ہے حقیقت میں تو دربان نہیں ہے
ai ins khalifa hai tu khaaqaan nahin hai
کوئی کیا جانے کون بہتر ہے یہ تو انسان کا مقدر ہے جس کے اخلاق ہوں بلند ارفع وہ ہی بہتر ہے اور برتر ہے ٹوٹنا چرخ پر ستارے کا رب کی قدرت کا ایک مظہر ہے دو گزی خاک پر کھدا مرقد ابن آدم کا دائمی گھر ہے ہر طرف خوف مرگ ہے طاری لگتا ہے یہ بھی کوئی محشر ہے دکھ میں آنسو نہیں بہاتا دل آج کل بن گیا یہ پتھر ہے جو کہ لکھتا ہے نام بی ایم خاں یہ معالےؔ وہی تو احقر ہے
koi kyaa jaane kaun behtar hai
سوچتا ہوں کہ کیا کیا اب تک جیتے رہنے سے کیا ملا اب تک ایک مدت سے جی رہا ہوں بس کچھ بھی حاصل نہیں ہوا اب تک آج کو چھوڑ فکر میں کل کی کیسے کیا جانے جی لیا اب تک سارے لوگوں کی باتیں سنتا رہا خود کا کہنا نہیں سنا اب تک ہوش اڑتے ہیں جب میاں بچے پوچھتے ہیں کہ کیا کیا اب تک اک زمانے سے ہے تلاش مگر مل نہ پایا مجھے خدا اب تک دکھ تو اس بات کا معالےؔ ہے کچھ نہیں خاص کر سکا اب تک
sochtaa huun ki kyaa kiyaa ab tak





