
Brijes Talat Nizamii
Brijes Talat Nizamii
Brijes Talat Nizamii
Ghazalغزل
ہر زخم ہو گیا ہے نمایاں ترے لیے گویا کہ ہو رہا ہے چراغاں ترے لیے میں خود ہی مبتلائے غم لا علاج ہوں لاؤں کہاں سے درد کا درماں ترے لیے دامن میں اپنے خار سجاتے یہ سوچ کر گل ہیں نصیب میں نہ گلستاں ترے لیے آ کر حدود شہر سے باہر بھی دیکھ لیں جنت بنا دئے ہیں بیاباں ترے لیے سب کچھ نثار راہ محبت میں کر دیا اب میرے پاس تحفۂ جاں ہے ترے لیے
har zakhm ho gayaa hai numaayaan tire liye
محبت کا قرینہ آ گیا ہے تری فرقت میں جینا آ گیا ہے گزر کر حادثوں سے رفتہ رفتہ سر ساحل سفینہ آ گیا ہے گھٹائیں دیکھتے ہیں آسماں پر خیال جام و مینا آ گیا ہے نگاہیں منتظر ہیں آ بھی جاؤ کہ ساون کا مہینہ آ گیا ہے مداوائے غم ہستی یہی ہے مجھے اشکوں کو پینا آ گیا ہے
mohabbat kaa qarina aa gayaa hai
آج کچھ ایسا محبت کا اثر طاری ہے ہوش اتنا بھی نہیں خواب کی بیداری ہے اس طرح آج سے پہلے تو نہ آتے تھے کبھی جانے یہ کس نئی بیداد کی تیاری ہے پاؤں اٹھتے نہیں کیوں منزل جاناں کی طرف شوق منزل نہ رہا یا مری خودداری ہے ایک لمحہ بھی ہمیں اذن رفاقت نہ ملا کیا یہی آپ کا آئین وفاداری ہے کیجئے ترک تعلق ہی ہمیشہ کے لیے ہم سے اتنی ہی اگر آپ کو بیزاری ہے
aaj kuchh aisaa mohabbat kaa asar taari hai
نظر میں خمار شراب محبت حسیں رخ پہ زلفوں کا آنچل گرائے یہ کون آ رہا ہے خراماں خراماں نظر بہکی بہکی قدم لڑکھڑائے قیامت سے کم کوئی لمحہ نہیں ہے خدا جانے ملنے کو کب آؤ گے تم امیدوں کا سورج بھی ڈھلنے لگا ہے بڑھے جا رہے ہیں درختوں کے سائے نہیں عشق محتاج پابندیوں کا حقیقت یہی ہے عقیدت یہی ہے لگا دی وہیں مہر الفت جبیں سے جہاں آپ کے نقش پا ہم نے پائے
nazar mein khumaar-e-sharaab-e-mohabbat hasin rukh pe zulfon kaa aanchal giraae
کیا سب کی نظر میں ہے اوقات سمجھتے ہیں دیوانے سہی پھر بھی یہ بات سمجھتے ہیں معلوم نہیں شاید مفہوم سحر ان کو جو لوگ اجالوں کو ظلمات سمجھتے ہیں ناداں ہو ابھی تم نے دنیا کو نہیں دیکھا ہم سارے زمانے کے حالات سمجھتے ہیں شکوہ ہی نہیں کرتے ہم ان سے جفاؤں کا ہر زخم محبت کو سوغات سمجھتے ہیں یہ اہل بصیرت ہیں مظلوم کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو بھی برسات سمجھتے ہیں
kyaa sab ki nazar mein hai auqaat samajhte hain
مری نظر میں یہ قیمت ہے مسکرانے کی چھپاؤ ہنستے ہوئے تلخیاں زمانے کی تمام عمر قفس میں بسر ہوئی لیکن ہمیشہ آتی رہی یاد آشیانے کی خوشی تھی اتنی کہ آنکھوں میں آ گئے آنسو خبر جو میں نے سنی آج ان کے آنے کی تڑپ تڑپ کے گزارے ہیں روز و شب لیکن کبھی زباں سے شکایت نہ کی زمانے کی
miri nazar mein ye qimat hai muskuraane ki





