
Bushra Masuud
Bushra Masuud
Bushra Masuud
Ghazalغزل
bahr-e-rang-e-daastaan rahne diyaa
بہر رنگ داستاں رہنے دیا اک تجسس درمیاں رہنے دیا اب زمیں بن کر بچھا جاتا ہے وہ میں نے جس کو آسماں رہنے دیا روشنی اور خواب سارے ہیچ تھے اپنی آنکھوں میں دھواں رہنے دیا وہ جگہ روشن نہیں ہوگی کبھی اس محبت کو جہاں رہنے دیا ماں نے ماتھا چوم کر رخصت کیا مامتا کا سائباں رہنے دیا کل ملا کے یہ ہے راز تشنگی ہم نے دل کو سرگراں رہنے دیا خود ہمی پامال ٹھہرے شوق سے خوش گماں کو خوش گماں رہنے دیا
dayaar-e-nur se taarikiyon mein aae hue
دیار نور سے تاریکیوں میں آئے ہوئے کبھی نہ ہوں گے فروزاں ترے بجھائے ہوئے سنہرے لوگ جو رستے کشادہ کرتے ہیں یہ دل زدہ ہیں بہت سے فریب کھائے ہوئے کسی نے مڑ کے ہمیں مسکرا کے دیکھا تھا پھر ایک عمر ہوئی دل سے مسکرائے ہوئے خسارہ ہے کہ شب و روز بڑھتا جاتا ہے ہمارے خواب بھی گویا ہیں قومیائے ہوئے
saanvli dhuup surmai mausam
سانولی دھوپ سرمئی موسم پھر وہی ہم ہیں پھر وہی موسم خیر ہو سائبان گم گشتہ جھیلنے پڑ گئے کئی موسم داستان تضاد ہے گویا شہر خوباں سمندری موسم ہم نے اپنی بیاض میں لکھے دل پہ بیتے ہوئے سبھی موسم اک تعلق ہے عارضی یعنی موسم گل ہے عارضی موسم دل فگاروں کو کون سمجھائے لوٹتے کب ہیں مخملی موسم
chaahe khoTe hain yaa khare hain ham
چاہے کھوٹے ہیں یا کھرے ہیں ہم دست قدرت کے لاڈلے ہیں ہم عکس رفتہ کو دیکھیے صاحب کتنے معصوم لگ رہے ہیں ہم رات جیون کا گیت گاتی ہے خواب تنویم دیکھتے ہیں ہم عمر لگ جائے گی سنبھلنے میں کس بلندی سے یوں گرے ہیں ہم ایک ہنگام ہے تغیر کا کنج نسیان میں پڑے ہیں ہم اب بھی مہندی کا رنگ گہرا ہے صندلیں ہاتھ پر رچے ہیں ہم اک تماشا ہے کار زار حیات دیکھ کر سیر ہو چکے ہیں ہم جھلملاتے ہیں آرزو کے کنول دل جھروکے سے جھانکتے ہیں ہم
shab ki taarik raahdaari hai
شب کی تاریک راہداری ہے اور مرا خوف اضطراری ہے سبز خوابوں کی کم سے کم قیمت زندگی بھر کی اشک باری ہے اک مسلط شدہ تمدن کو یہ نہ کہیے کہ اختیاری ہے شش جہاتی مشاہدہ ہے میاں تجربوں کی سند پہ بھاری ہے شکریہ آپ کی محبت کا دل کا مقسوم سوگواری ہے تجزیے سن کے مسکرا دینا اپنی اتنی ہی ذمہ داری ہے
aakhiri hal thaa yahi pesh-e-nazar jaane diyaa
آخری حل تھا یہی پیش نظر جانے دیا ایک گہری سانس لی پھر خواب مر جانے دیا ساربانا دے گواہی مجھ کو پیاری تھی انا رکھ لیا زاد سفر اور ہم سفر جانے دیا حضرت ناصح کی خوش افتادگی پہ داد ہے خود جدھر سے آئے تھے سب کو ادھر جانے دیا اس حریم ناز میں یوں بے محابا گفتگو کچھ بھرم رکھا تو ہوتا تم کو گر جانے دیا تجھ کو روکا جا رہا تھا روشنی تھی جب تلک شام کے ڈھلتے سمے سورج کو گھر جانے دیا آنکھ سپنے دیکھتی تھی آنسوؤں سے کیوں بھری چاہتی تو پوچھ لیتی میں مگر جانے دیا دوستا قسمت نہ ہو تو کوششیں بے کار ہیں صبر کا پیمانہ ہم نے خود ہی بھر جانے دیا دل مصر تھا بارہا کچھ جانچنے کو رک گئے آخرش اس نے ہمیں بار دگر جانے دیا





