SHAWORDS
B

Buta Khan Rajas

Buta Khan Rajas

Buta Khan Rajas

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

miTTi ke alaava hain kahaan ham se kahin aur

مٹی کے علاوہ ہیں کہاں ہم سے کہیں اور افلاک نشیں اور ہیں ہم خاک نشیں اور یہ کس کی سرائے ہے شب و روز جہاں سے اک جائے مسافر تو اک آ جائے مکیں اور تجھ حسن مکمل میں قیامت کی کشش ہے یوسف تو ہزاروں ہیں مگر تجھ سا نہیں اور میں جان کی بازی بھی لگا دوں اے زمانے گر ڈھونڈ کے لا دے تو محمد سا امیں اور راجسؔ کی طبیعت پہ عجب تیرا اثر ہے رہتا ہوں کہیں اور میں ہوتا ہوں کہیں اور

غزل · Ghazal

pal bhar ko jis mein chain na aae chhoD do us kaashaane ko

پل بھر کو جس میں چین نہ آئے چھوڑ دو اس کاشانے کو گلشن ہی جب کہ راس نہیں آباد کرو ویرانے کو ہجر کی رات تھی اتنی لمبی کاٹے سے ناں کٹتی تھی غم کی جوت جگائی میں نے اس دل کے بہلانے کو کیا کیا نعمت بخشی ہے اس پیارے نے یہ مت پوچھو درد دیا کچھ داغ دئے اور اشک دئے پی جانے کو کوئی تو تعبیر بتائے خواب اک میں نے دیکھا ہے مسجد کو سب رند چلے اور شیخ چلے میخانے کو آندھی اور طوفان بھی اس کو روک سکے نہ راہوں میں دور سے آیا ہے پروانہ شمع ہی پر مٹ جانے کو اونچی نیچی ترچھی ٹیڑھی سب راہیں جو دیکھ چکا کون آ کر سمجھائے گا اب اس راجسؔ دیوانے کو

غزل · Ghazal

haq baat pe martaa huun to marne nahin dete

حق بات پہ مرتا ہوں تو مرنے نہیں دیتے یہ اہل جہاں کچھ بھی تو کرنے نہیں دیتے اس پار کی باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن کشتی کوئی اس پار اترنے نہیں دیتے ہر جرم مرے نام کیے جاتے ہیں لیکن خود پر کوئی الزام وہ دھرنے نہیں دیتے ہے فکر انہیں مر کے بھی میں زندہ رہوں گا یہ سوچ کے ظالم مجھے مرنے نہیں دیتے اس دہر کے مقتل میں بپا ظلم ہے ایسا مظلوم کو فریاد بھی کرنے نہیں دیتے منزل ہے کڑی ایسی کڑی بھی تو نہیں ہے وہ راہنما ہیں کہ گزرنے نہیں دیتے راجسؔ انہیں دعویٰ ہے بہت چارہ گری کا رستے ہوئے زخموں کو جو بھرنے نہیں دیتے

غزل · Ghazal

jo log ujaale kaa sab ko paighaam sunaane aate hain

جو لوگ اجالے کا سب کو پیغام سنانے آتے ہیں ان شب زادوں کی نگری میں وہ سولی پر چڑھ جاتے ہیں اے میرے خدا کچھ تو ہی بتا یہ دور الم کب گزرے گا اس بستی میں تو مصنف بھی سچ کہنے سے گھبراتے ہیں اس دنیا میں اپنی خاطر اک لمحہ بھی خوشیوں کا نہیں فریاد کہ بس اب ہم ہی ہیں جو رنج پہ رنج اٹھاتے ہیں اس شہر کے جتنے باسی ہیں وہ گونگے بہرے ہیں ورنہ ان پر بھی کھلے یہ اہل قلم لکھتے ہیں یا چلاتے ہیں اس دور کے بعد جو دور نیا دنیا میں آنے والا ہے ہم راجسؔ چپ کی پستی میں اس دور کے نغمے گاتے ہیں

Similar Poets