Captain Damingo Paul Lizwa
وہ عندلیب ہوں کہ صدا مجھ کو غم رہا باغ جہاں میں نخل تمنا قلم رہا وحشی وہ ہوں کہ حد عدم سے نہ بڑھ گیا صحرا میں قیس کا میں قدم در قدم رہا منظور ان کو صاف ہیں وعدہ خلافیاں اے انتظار کیوں مری آنکھوں میں دم رہا اکثر مری غزل میں جو نکتے ہیں رمز ہیں عاجز جبھی ثنا میں ہر اہل قلم رہا عادت سجود کی جو تھی عہد شباب میں پیری میں بھی صدا قد عاشق میں خم رہا ذرہ نئی غزل کہی یکتاؔ کے فیض سے گو درد مشق شعر و سخن تجھ کو کم رہا
vo 'andalib huun ki sadaa mujh ko gham rahaa