
Chandra Shekhar Varma
Chandra Shekhar Varma
Chandra Shekhar Varma
Ghazalغزل
ye kab kahaa hai ham ne sajda nahin kareinge
یہ کب کہا ہے ہم نے سجدہ نہیں کریں گے تم جس کا چاہتے ہو اس کا نہیں کریں گے تم چاہتے اگر ہو ہم ضد نہیں کریں تو تم بھی کرو یہ وعدہ نخرا نہیں کریں گے اک دوستی میں ہم نے دل اور جاں لٹا دی سوچو کہ عشق میں ہم کیا کیا نہیں کریں گے تم مانو یا نہ مانو سب سے نیا ہے دھوکا ان کا یہ تم سے کہنا دھوکا نہیں کریں گے پیسہ دکھا کے اس نے بولا کرو غلامی غیرت دکھا کے ہم نے بولا نہیں کریں گے لب کو ملا کے لب سے کرنی ہیں دل کی باتیں ناراض ہو گئیں کیا اچھا نہیں کریں گے دل چاہتا ہے تم پر کر لیں یقین لیکن وہ جتنا چاہتا ہے اتنا نہیں کریں گے مشکل بہت ہے شیکھرؔ پھر سے نہ دل لگائیں کوشش بھلے ہی کر لیں وعدہ نہیں کریں گے
tire gavaah ne kaisaa bayaan rakkhaa hai
ترے گواہ نے کیسا بیان رکھا ہے کہا ہے جھوٹ مگر سچ کا دھیان رکھا ہے پتہ لگاؤ کہ وہ خود کو کیا سمجھتا ہے جہان بھر نے خدا جس کو مان رکھا ہے نہ جانے کب کسی کے واسطے دھڑکنا ہو سو دل نے خود کو ابھی تک جوان رکھا ہے زباں پہ آتی ہوئی دل کی بات سے ڈر کر کسی نے منہ میں اچانک سے پان رکھا ہے خدا کے پاس اضافی تھا فاصلہ جتنا وہ اس نے تیرے مرے درمیان رکھا ہے جو کاٹتا ہے اسے دی زبان لمبی سی جو کٹ رہا ہے اسے بے زبان رکھا ہے سنو گے بات تو تم سب کی دھیان سے شیکھرؔ کرو گے تم وہی جو تم نے ٹھان رکھا ہے
duniyaa mein ik din sikka ijaad huaa
دنیا میں اک دن سکہ ایجاد ہوا پھر اگلے ہی دن کاسہ ایجاد ہوا کوئی تو پروازوں سے ڈرتا ہوگا ورنہ کس کارن پنجرہ ایجاد ہوا دنیا بھر کے مردوں تھوڑی شرم کرو وجہ تمہیں تھے جو پردا ایجاد ہوا لازم تھا ایجاد مکھوٹے کا ہونا دنیا میں جب آئینہ ایجاد ہوا دفن ہوئی مٹی سیمنٹ کے جنگل میں پودھوں کی خاطر گملا ایجاد ہوا حسن اکیلا تھوڑی آیا دنیا میں اس کے بنتے ہی نخرا ایجاد ہوا پہلے ہاتھوں ہاتھ لیا سب نے اس کو گیند پٹی تب جب بلا ایجاد ہوا جس دن زلفیں روٹھی ہوں گی انگلی سے اس دن دنیا میں کنگھا ایجاد ہوا
shanaavar ko bachaanaa chaahiye thaa
شناور کو بچانا چاہیئے تھا ندی کو ڈوب جانا چاہیئے تھا نہیں ڈھکنا تھا تم کو آئنے کو تمہیں چہرہ چھپانا چاہیئے تھا اڑایا کس لئے تم نے پرندہ تمہیں پنجرہ اڑانا چاہیئے تھا تمہیں پا کر بھی یہ لگتا ہے ہم کو تمہیں کچھ اور پانا چاہیئے تھا وہاں جا کر نظر تم نے اٹھائی جہاں پر سر جھکانا چاہیئے تھا انہوں نے صبح مانگی تھی نئی کیوں جنہیں سورج پرانا چاہیئے تھا میں کر سکتا ہوں یہ دعویٰ تھا جن کا انہیں کر کے دکھانا چاہیئے تھا وہ اک قصہ پہ راضی ہو گیا تھا ہمیں پورا فسانہ چاہیئے تھا نظامت کے ذرا آداب سیکھو تمہیں مصرع اٹھانا چاہیئے تھا
bujhaa Daale havaa ne shahr ke saare diye par
بجھا ڈالے ہوا نے شہر کے سارے دیے پر اسے افسوس رتی بھر نہیں اپنے کئے پر یہ مت پوچھو کہ کتنی مرتبہ ہم نے نکالا تمہارے خط نہیں آنے کا غصہ ڈاکئے پر وہ جب تک اڑ رہی تھی ہو نہیں پایا یہ ممکن ہے چڑیا اب قفس میں چین سے گن لیجئے پر سنی ہے جب سے ہم نے بھیڑیا آیا کہانی یقیں انسان پر کم ہے زیادہ بھیڑیے پر نکالی جائے گی اب کھال اس کی دیکھنا تم ملا ہے جو تمہارا بال میرے تولیے پر
sabhi sadiyon ko mil kar sochnaa hai
سبھی صدیوں کو مل کر سوچنا ہے کہ اک لمحے کا من کیوں انمنا ہے تمہارے پاس ہیں علم و ہنر سب ہمارے پاس بس اک بچپنا ہے بچا کر تم اسے گلک میں رکھو ہمیں تو زندگی کو خرچنا ہے ہیں کچھ ایمان تیرے کھیل میں یا ترا مقصد یہاں بس جیتنا ہے سوا اس کے قیامت اور کیا ہے خدائی کا خدا سے سامنا ہے ذرا یہ سوچ کر تقریر کرنا تمہارے بعد ہم کو بولنا ہے چمک سورج کی کم تھوڑے ہوئی ہے اسے گھیرے ہوئے بادل گھنا ہے کسی دن بھاڑ کو وہ پھوڑ دے گا جسے کہتے ہیں سب تھوتھا چنا ہے





