SHAWORDS
Charagh Barelvi

Charagh Barelvi

Charagh Barelvi

Charagh Barelvi

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

بے سبب چاک پر دھرے تھے ہم بنتے بنتے بھی کیا بنے تھے ہم ضبط غم ہار ہی گیا آخر اس کو دیکھا تو رو پڑے تھے ہم تجھ کو کانٹے کہاں سے لگ جاتے آگے آگے جو چل رہے تھے ہم حادثہ کس طرف کو لے آیا گھر سے کیا سوچ کر چلے تھے ہم سچ بتا خالق جہان خراب اس تماشے کو ہی بنے تھے ہم ہو گئی شام تب ملی دنیا سارا دن ڈھونڈے پھرے تھے ہم

be-sabab chaak par dhare the ham

1 views

غزل · Ghazal

اس چشم اشک بار کی ضد رائیگاں تو ہو میری فصیل صبر کا کوئی نشاں تو ہو یہ کیا کہ ایک سمت ہی جاتی ہے زندگی کچھ کاروبار شورش سود و زیاں تو ہو جنت سی کوئی چیز ہو غم کا معاوضہ بے شک سکوں یہاں نہ ہو لیکن وہاں تو ہو جبراً نہ کچھ ملے گا تو اصرار کیجئے بے دست و پا ہوں چھوڑیئے منہ میں زباں تو ہو لے جائیے بدن کو بھی آخر کہاں پہ آپ کوئی زمیں تو ہو کہیں اک آسماں تو ہو آئے یقین کیوں ہمیں جلتا تھا اک بدن بے شک نہ آگ ہو کہیں لیکن دھواں تو ہو

us chashm-e-ashk-e-baar ki zid raaegaan to ho

غزل · Ghazal

خود اپنے پاؤں کے نیچے بھنور بناتا ہوں میں اک سرائے کو ہر روز گھر بناتا ہوں یہ کوئی دکھ ہے گلہ ہے یا کوئی پچھتاوا میں کاغذوں پہ جو اکثر شجر بناتا ہوں مرے مکان میں اب دھوپ بھی نہیں آتی میں کس امید سے آخر یہ در بناتا ہوں نگل ہی جائے کبھی تو سیاہ رات مجھے میں اک چراغ بجھا کر یہ ڈر بناتا ہوں میں جانتا ہوں کہ مٹی کے ہیں پرند کے پنکھ بنا کے کچھ نہیں حاصل مگر بناتا ہوں

khud apne paanv ke niche bhanvar banaataa huun

غزل · Ghazal

ہم کو رکھنی تھی سو اک چاک پہ رکھ دی مٹی کوزہ گر جانے کہ کس شکل ڈھلے گی مٹی شہر کی گلیوں میں اک شور تھا دنیا دنیا قبر گاہوں سے سدا آئی کہ مٹی مٹی اس کی ضد تھی کہ ڈھلیں اس کی ہی ہم شرطوں پر اور ہم لے کے چلے آئے ہیں اپنی مٹی ایک مدت سے کوئی شکل نہیں ملتی ہمیں تو نے کس چاک پہ رکھ دی یہ ہماری مٹی ہم کہاں اور کسی ذات میں ہوتے ہیں نہاں اپنی مٹی سے نہیں ملتی کسی کی مٹی چھان کر دیکھنا مل جائیں گی میری کرچیں تیرے آنگن میں جو اک صبح ملے گی مٹی دشت ہی دشت نظر آتا ہے مجھ کو اے ہوا تو نے ڈالی ہے مری آنکھ میں کیسی مٹی ختم ہوتا ہی نہیں ہے کسی خواہش کا طواف کیوں کسی چاک کو ملتی نہیں اچھی مٹی

ham ko rakhni thi so ik chaak pe rakh di miTTi

غزل · Ghazal

ڈوبتے وقت جو کچھ ہاتھ میں گوہر آئے سب کے سب ناخدا کے ہاتھ میں ہم دھر آئے جنگ لڑنے گئے ہم جو سحر دنیا سے شام کو گھر کئی حصوں میں بکھر کر آئے اس کی آنکھوں کو تماشے کی تمنا ہے بہت اس سے کہنا کہ کسی رات مرے گھر آئے ہائے اس نقل مکانی نے کیا ہے برباد جتنے بسنے کو گئے اتنے اجڑ کر آئے

Dubte vaqt jo kuchh haath mein gauhar aae

غزل · Ghazal

سچ چھپاتی رہی ہوا یعنی دشت کا حال اور تھا یعنی بندشیں روح و جسم پر خوش ہوں قید میں بھی ہے اک مزہ یعنی گر خدا بن نہیں ہے کچھ بھی یہاں ہے خدا کا بھی اک خدا یعنی لوریاں سبکیاں میں بدلی ہیں کوئی سچ مچ میں سو گیا یعنی عشق کی روح کانپ اٹھی ہے جسم نے جسم چھو لیا یعنی

sach chhupaati rahi havaa yaani

Similar Poets